پاكستان :ہنگو میں كرفيونافذ، جلوس پر پابندی۔

IQNA

پاكستان :ہنگو میں كرفيونافذ، جلوس پر پابندی۔

13:37 - January 31, 2007
خبر کا کوڈ: 1522829
بين الاقوامی گروپ : پشاور كے جنوب مغرب میں تقريباً سو كلومیٹر كے فاصلے پر واقع ہنگو شہر میں كرفيو كے نفاذ اور علاقے میں امن وامان برقرار ركھنے كی خاطر مقامی انتظامیہ كی طرف سے علاقے میں عاشورۂ محرم كے موقع پر علم اور ذوالجناح كے جلوسوں كی اجازت نہیں دی۔







ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی ايكنا نے بی بی سی اردو سے نقل كيا ھےكہ ہنگو كے ضلعی رابطہ افسر فخر عالم محمد زئی نے بی بی سی كو بتايا كہ منگل كی صبح راكٹ اور مارٹر حملوں كے بعد شہر میں امن وامان كی صورتحال تيزی سے بگڑتی جا رہی تھی جس كے بعد فوج نے فوری طورپر علاقے كا كنٹرول سنبھال كر كرفيو نافذ كيا۔

ان كا كہنا تھا كہ شہر میں امن وامان برقرار ركھنے كےلئے مقامی انتظامیہ كو مجبوراً علم اور ذوالجناح كے جلوسوں كو روكنا پڑا جبكہ ماتم اور ديگر سرگرميوں كو امام بارگاہوں تك محدود ركھا گيا۔

سركاری اہلكار نے مزيد بتايا كہ شہر میں اس قسم كے حالات پيدا ہوگئے تھے جس میں ماتمی اور ديگر جلوسوں كی اجازت دينا حكومت كے لیے ايك بڑا سكيورٹی رسك بن سكتا تھا۔

ہنگو سے ملنے والی اطلاعات كے مطابق امام بارگاہ پر راكٹ حملے اور فائرنگ كے واقعات كے بعد شہر كے اطراف میں رہنے والوں لوگوں نے علاقے میں ممكنہ جھڑپوں كے پيش نظر بچوں اور عورتوں كو محفوظ مقامات پر منتقل كرنا شروع كر ديا تھا۔


شہر میں اس قسم كے حالات پيدا ہوگئے تھے جس میں ماتمی اور ديگر جلوسوں كی اجازت دينا حكومت كے لیے ايك بڑا سكيورٹی رسك بن سكتا تھا۔

عينی شاہدين كا كہنا ہے كہ فوج كی جانب سے كرفيو پر سخت عمل درآمد كيا گيا ہے اور جن علاقوں میں صورتحال خراب ہو سكتی تھی وہاں پر كسی كو گھر سے باہر آنے كی اجازت نہیں دی گئی۔

واضح رہے كہ عاشورہ كی صبح ہنگو میں قومی امام بارگاہ كے سامنے راكٹ گرنے اور اس كے بعد فائرنگ كے واقعات میں دو افراد ہلاك جبكہ چودہ زخمی ہوگئے تھے جس كے فوری بعد شہر كو فوج كے حوالے كر كے وہاں كرفيو نافذ كر ديا گيا تھا۔

ہلاك ہونے والے دو افغان مہاجر بتائے جا رہے ہیں جبكہ زخميوں میں زيادہ تر پوليس اہلكار شامل ہیں۔ہنگو سے ملنے والی اطلاعات كے مطابق یہ واقعہ منگل كی صبح ساڑھے پانچ كے قريب اس وقت پيش آيا جب نامعلوم مقام سے فائر كيا گيا ايك راكٹ قومی امام بارگاہ محلہ خان باڑی میں آكرگرا جس سے وہاں پر موجود دس پوليس اہلكار زخمی ہوگئے۔
پوليس كا كہنا ہے كہ راكٹ حملہ ايسے وقت میں كيا گيا جب ايك ماتمی جلوس امام بارگاہ میں داخل ہورہا تھا تاہم جلوس میں كسی كے زخمی ہونے كی اطلاع نہیں۔

دو روز پہلے پشاور میں خود كش حملے كے بعد سے پورے ملك میں عاشورہ كے موقع پر سكيورٹی سخت كر دی گئی تھی۔ پير كو بنوں امام بارگاہ پر بھی راكٹ حملہ كيا گيا اور ڈيرہ اسماعيل خان میں ايك خود كش حملہ ہوا تھا۔

عينی شاہدين كا كہنا ہے كہ واقعے كے فوری بعد علاقے میں كئی جگہوں سے فائرنگ كی آوازیں سنائی دیں اور علاقے میں كچھ مارٹر گولے بھی گرے۔

نظرات بینندگان
captcha