ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے رویٹرز نيوز ايجنسی سے نقل كيا ہے كہ یہ اجتماع حج كے بعد مسلمانوں كے بہت بڑے اجتماعات میں سے شمار ہوتا ہے اور ہر سال بنگلہ ديش مشرق وسطی ٫پاكستان ٫امريكہ اور يورپی ممالك سے ۲۰ لاكھ سے زائد مسلمان تين دن تك نماز جماعت كے قائم كرنے اور خدا سے مناجات كے لیے بنگلہ ديش كے دارالحكومت ڈھاكہ سے ۲۰ كلو میٹر شمال میں صنعتی شہر تونگی میں توراگ كی نہر كے كنارے اكٹھے ہوتے ہیں-
بنگلہ ديش كے بہت سے مسلمان اپنے طعام و لباس كا انتظام كر كے پيدل ايك لمبا سفر كرنے كے بعد اس عظيم اجتماع میں شريك ہوتے ہیں تاكہ دوسرے مسلمانوں كے ساتھ مل كر توراگ نہر كے كنارے ريت پر عبادت و قرآن كی تلاوت كر سكیں-
بيشوا اجتماع پہلی مرتبہ ۱۹٦٦ء كو بين الاقوامی تبليغ كونسل كی راہنمايی اور اسلام كی تبليغ كے مقصد كی خاطر منعقد ہوا –
یہ پروگرام كل بنگلہ ديش كے صدر ايا جالدين احمد ٫سابقہ وزراۓ اعظم ٫بيگم خالدہ ضياء اور شيخ حسينہ واجد جيسی سياسی شخصيات كی موجودگی میں اپنے اختتام كو پہنچے گا-