ممتاز عالم دين مولانا سيد عون محمد نجفی

IQNA

ممتاز عالم دين مولانا سيد عون محمد نجفی

11:54 - March 26, 2007
خبر کا کوڈ: 1533489
فكر ونظر گروپ :سندھ كے ممتاز عالم دين مولانا سيد عون محمد نجفی,,,,تحرير…سيد حيدر رضا نجفی



حجتہ الاسلام مولانا السيد عون محمد نجفی علم و دانش، فہم و فراست كے پيكر، خوش خلق ملنسار، خدا ترس، خوش طبع اور انسان دوست تھے۔ بندگان خدا كے حقوق كی ادائيگی والدين كی خدمت و اطاعت ان كا زندگی بھر شعار رہا۔ مولانا مرحوم كی علمی دينی، سماجی اور سياسی خدمات لائق ستائش ہیں۔ آپ نے علم و دانش اور حسن اخلاق كے ذريعے ہزاروں نوجوانوں كے دل جيت لئے اور نوجوانوں كو بے راہ روی سے دين كامل كی طرف راغب كرنے میں ناقابل فراموش كردار ادا كيا۔ مولانا مرحوم 1938ء میں علماء، فضلاء شعرا اور دانشوروں كے شہر اعظم گڑھ میں پيدا ہوئے مولانا مرحوم نے پاكستان كے مدرسہ مشارع العلوم میں تعليم حاصل كی 1954ء میں وہ اعلیٰ تعليم كيلئے ايران و عراق گئے اور وہاں انہوں نے 14 سال تك جيد علما سے اكتساب علم كيا۔ 1962 ء میں امام خمينی كی جلا وطنی كے دوران انہوں نے عراق میں ملاقات كا شرف حاصل كيا اور امام خمينی نے پاكستان میں ان كو اپنا نمائندہ مقرر كيا۔ 1985ء میں زيارت كيلئے ايران اور عراق گئے اور وہیں آيت اللہ خمينی سے ملاقات كی۔ اس ملاقات كے دوارن سيد علی خامنہ ای اور علی اكبر ہاشمی رفسنجانی بھی موجود تھے اور كئی جيد علما سے ملاقات كا شرف حاصل كيا۔
علامہ مرحوم نے اندرون سندھ كئی دينی اور سماجی تنظيموں كی بنياد ركھی ٹنڈو آدم میں انجمن سفينہ اہل بيت كے سرپرست اعلیٰ بھی تھے۔ مرحوم كا شمار پاكستان كے جيد علما میں ہوتا تھا اور آپ كی متعدد تحارير نسل نو كيلئے مشعل راہ كی حيثيت ركھتی ہیں۔ مرحوم ايك عالم دين ہونے كے ناطے خداداد صلاحيتوں كے مالك تھے علم كی روشنی چونكہ انہیں حاصل تھی اس لئے انسانيت كے احترام سے واقف تھے نظرياتی جنگ سے بالاتر ہو كر معاشرے كے ہر طبقے میں يكساں مقبول تھے۔ خاطر و مدارات میں اپنا نماياں مقام ركھتے تھے اسی بناء پر وہ ہر جمعرات كو دعوت عام كا اہتمام
كرتے تھے جس میں صرف فقراء شركت كرتے تھے۔ استاد ہونے كی وجہ سے شفيق اور مہربان تھے طلبہ میں نہايت احترام كی نگاہ سے ديكھے جاتے تھے۔ آپ كو اصل تربيت اپنے گھر میں والدين اور ديگر بزرگوں كے زير سایہ ملی۔ محبتوں كی سرزمين سندھ تشريف لانے كے بعد مولانا مرحوم نے اپنی زندگی كا عملی طور پر آغاز كر ديا تھا۔ مولانا صاحب بے پناہ قابليت اور صلاحيت كے حامل تھے۔ آپ نے عالم اور استاد بننے كو ترجيح دی۔ مولانا صاحب ايك ايسے مشفق استاد تھے جنہوں نے اپنے طالب علموں كو كبھی بھی اپنے سے جدا نہ سمجھا۔ انہوں نے طويل عرصہ تك سرسيد ہائی اسكول ٹنڈو آدم میں تدريس كی خدمات انجام دیں۔ علامہ مرحوم عام استادوں كی طرح سختی كے قائل نہیں تھے۔ طالب علموں كی غلطيوں پر بھی انہیں ڈانٹتے نہیں تھے بلكہ ان كی پہلی كوشش یہ ہوتی تھی كہ طلبہ كو پيار و محبت سے سمجھايا جائے انہیں تعليمی نظام كی زبوں حالی كا احساس تھا لہٰذا ان كی كوشش یہ ہوتی تھی كہ طلبہ كو زيادہ سے زيادہ محبت دی جائے۔ عجز و انكساری تو آپ میں كوٹ كوٹ كر بھری تھی كہ ان كی مشفقانہ شان كا یہ عالم تھا كہ طالبہ رات كے اندھيرے يا جون جولائی كی تپتی دوپہر میں ان كے آرام كی پروا كئے بغير بلا جھجك مولانا صاحب كے پاس چلے آتے تھے۔ علامہ صاحب كی قابليت، ذہانت، صلاحيت اور شخصيت كے اعلیٰ جوہر كے ساتھ ساتھ ايك اہم بات یہ تھی كہ آپ كی ذات تمام تر سياسی آلودگيوں سے پاك تھی۔ انہوں نے كبھی بھی كسی جلسے يا سيمينار میں سياسی لب و لہجہ اختيار نہیں كيا۔ وہ موجودہ سياست كو پسند نہیں كرتے تھے۔ اپنے طالب علموں كو بھی یہی درس ديتے تھے كہ وہ اپنا قيمتی وقت صرف اور صرف تعليم حاصل كرنے میں صرف كریں۔ آپ كی ہمہ رنگ شخصيت كا سب سے اہم پہلو یہ تھا كہ آپ اتحاد بين المسلمين كے داعی تھے۔ ہر مكتبہ فكر میں يكساں مقبول تھے۔ 1987ء میں ايران جانے كی تياری میں مصروف تھے كہ ان كے سينے میں اچانك درد اٹھا۔ فوری طور پر امراض قلب كے ادارے تعلقہ اسپتال لے جايا گيا۔ جہاں سے صحت ياب ہو كر گھر واپس آگئے۔ دوران بيماری یہ عالم تھا كہ ہر وقت مولانا صاحب كے دوستوں، احباب، اقربا، پرستاروں اور طالب علموں كا ہجوم رہتا تھا۔ كھانا كھاتے ہوئے ايك مرتبہ پھر دل كا دوسرا دورا پڑا جو جان ليوا ثابت
ہوا اور 22 مارچ 1987ء كو ان كا انتقال ہوگيا اس طرح شہر علم كا یہ آفتاب غروب ہوگيا۔ آپ كے جنازے میں ہر سياسی جماعت كے رہنما نے شركت كی۔ مولانا صاحب اپنی ذات میں ايك تحريك بلكہ ايك ادارہ تھے ايك ايسا ادارہ جس میں انسانيت كی تمام قدریں موجود تھیں۔
علامہ صاحب كی ذات كا كوئی بھی پہلو ايسا نہ تھا جو آفتاب كی كرنوں كی مانند چمكدار اور صبح كا ذب كی طرح اجلا نكھرا نہ ہو۔ فن خطابت پر استاد محترم كو عبور حاصل تھا۔ كوئی بھی عنوان ہو فی البدیہہ بولتے تھے۔ تقرير كے ساتھ آپ كی تحرير بھی خوبصورت تھی فكر و نظر كی پختگی اسلوب بيان كی جدت اور مہذبانہ انداز تحرير اس بات كی غمازی كرتی تھی كہ مولانا صاحب كو قلم كی حرمت كا پورا احساس ہے۔
مولانا صاحب نے صرف 50 سال كی مختصر عمر پائی ليكن اس میں جو آدھی سے زيادہ تعليم اور پھر تدريس میں گزاری اپنی قابل تقليد زندگی كے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ كی متعدد تصانيف نسل نو كيلئے مشعل راہ كی حيثيت ركھتی ہیں۔ آج مولانا محترم ہم میں موجود نہیں ليكن ان كی يادیں اور ان كا مشن ہمیں ہميشہ دعوت عمل ديتا رہے گا۔



نظرات بینندگان
captcha