قرآنی سرگرميوں كے ادارہ سے تعلق ركھنے والے ايك ذمہ دار فرد عيسی علی زادہ نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا سے بات چيت كرتے ہوۓ كہا كہ ان مقابلوں كے شركاء قرائت قرآن اور حفظ كل قرآن میں رقابت كی تھی اور آئندہ ہونے والے مقابلوں میں ان دو موضوعات كے علاوہ تفسير قرآن كا اضافہ بھی كيا جاۓ گا
انہو ں نے كہا ان قرآنی مقابلوں كا پہلا پروگرام ۲۰۰٦ ء میں ہوا جس میں ۲۹ ممالك كے نمائندگان نے شركت كی-