ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق ٫٫ ميراث گرانقدر ٬٬ نامی بلاگ سے تقطيع حديث كے موضوع پر لكھا ہے كہ روايت كے كچھ حصہ كو اخذ كرنا اسے تقطيع سے تعبير كيا جاتا ہے اگر چہ اس كی تعريف میں علماء كے مابين اختلاف پايا جاتا ہے بعض علماء نقل بہ معنی كو جائز نہیں سمجھتے اور تقطيع حديث كو بھی ممنوع قرار ديتے ہیں –
انہوں نے كہا كہ خطيب بغدادی نے كہا كہ اگر كسی متن میں دو حكم بيان كیے گۓ ہوں تو یہ حديث منفصل كی طرح ہے لہذا اس كے احكام كو عليحدہ عليحدہ كرے نقل كيا جا سكتا ہے –
128146