ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق بلاگر نے اپنے اس مضمون میں لكھا ہے كہ غذا تناول كرنے میں حد سے بڑھنا اسراف ہے لہذا زيادہ كھانا مٶمن كو عبادت سے محروم نہ كر دے – بلكہ كھانا تناول كرنے كا مقصد بھی عبادت اور كاروبار محنت و مزدوری ہونا چاہیۓ ٬حديث میں وارد ہوا ہے كہ حلال مال میں سے جو دنيا میں كھاٶ گے آخرت میں اس كے بارے میں سوال نہیں كيا جاۓ گا –
رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمايا : پیٹ بھر كر كھانا تناول كرنے سے برص جيسی بيماری پيدا ہو سكتی ہے –امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمايا كہ اگر كوئی كہے كہ فلاں كھانے نے مجھے اذيت دی ہے تو اس شخص نے كفران نعمت كيا –
امام موسی كاظم علیہ السلام نے فرمايا : اگر لوگ كھانا تناول كرنے میں اعتدال سے كام لیں تو صحيح و سالم رہیں گے-
131811