ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق آيت تطھير ٫٫ انما يريد ليذھب عنكم الرجس اھل البيت و يطھر كم تطھيرا ٬٬ بس اور بس اللہ كا ارادہ یہ ہے كہ اے اھلبيت علیھم السلام تمہیں ہر طرح كے رجس سے دور ركھے بعض مفسروں كا كہنا ہے كہ رجس سے مراد شرك يا گناہ كبيرہ جيسے زنا وغيرہ مراد ہے –جبكہ اس دعوی پر كوئی دليل نظر نہیں آتی بلكہ الرجس پر چونكہ الف و لام ہے جبكہ وہ الف و لام جنس ہے لہذا وہ ہر طرح كی پليدگی اور گناہ كو شامل ہے اس لیے كہ تمام گناہ رجس ہیں –لہذا قرآن مجيد میں كلمہ رجس ٬شرك ٬ شراب ٬ جوا ٬منافقت ٬حرام گوشت اور ناپاك چيزوں كے لیے استعمال ہوا ہے –
سورہ حج ٬۳۰ ٬مائدہ ۹۰ ٬توبہ ۱۲۵ ٬انعام ۱۴۴ كی آيات ملاحظہ كریں اور چونكہ ارادہ الہی تخلف نا پذير ہے اور جملہ انما يريد اللہ ليذھب عنكم الرجس –پروردگار كے حتمی ارادے كی دليل ہے چونكہ كلمہ انما بھی موجود ہے جو حصر اور تاكيد كو بيان كرتا ہے لہذا خداوند عالم كا حتمی ارادہ یہ ہے اھلبيت علیھم السلام كو ہر طرح كے رجس ٬گناہ اور آلودگی سے پاك ركھے اور یہی مقام عصمت ہے –