ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی كی رپورٹ كے مطابق بی بی سی اردو سروس نے لكھا هے كه نو سال كی یہ بچی جب مدرسہ مدينتہ العلوم میں قرائی آيات كی تلاوت كرتی ہے تو مدرسہ كے مولوی اسے حيرت سے ديكھتے ہیں كيونكہ اس لڑكی كا نام ہيم لتا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ سے وہ پٹنہ سے دس كلو میٹر دور كھكول میں واقع جامع مسجد میں چلنے والے اس مدرسہ میں آرہی ہے۔
ہيم لتا مدرسہ كے پاس ہی رہتی ہیں۔ ابتداء اردو پڑھنے سے ہوئی اور اب وہ باقاعدہ قرآن شريف پڑھ رہی ہیں۔ مدرسہ كے منتظمين كہتے ہیں كہ ہيم لتا كے والد دليپ كمار چودھری كا، جو ريلوے میں ملازم ہیں، كہنا ہے كہ ان كی تمنا تھی كہ ان كے بچے اردو، عربی اور قرآن پڑھ سكیں۔
ہيم لتا كی والدہ كہتی ہیں كہ ايسا كرنے سے انہیں خاندان يا سماج میں كسی بھی طرح كی مخالفت يا تنقيد كا سامنا نہیں كرنا پڑا۔ ارملا ديوی نے بتايا كہ كبھی كبھار لوگ مذاق میں كہا كرتے ہیں كہ ہم بچوں كو مولوی بنا رہے ہیں۔
اب ہيم لتا كاچھوٹا بھائی آشيش ودھيارتھی بھی بہن كے ساتھ مدرسہ جاتا ہے اور اردو پڑھنے لگا ہے۔ والدين چاہتے ہیں كہ وہ بھی قرآن پڑھنا سيكھ جائے۔ مدرسہ میں حفظ كرنے والے بچوں اور بچيوں كو ديكھا ديكھی ہيم لتا كے دل میں یہ خواہيش پيدا ہوئی كہ وہ بھی حفظ كرے۔ اس كی اس خواہش میں اس كے والدين كی رضامندی بھی شامل ہے۔
ہيم لتا كاچھوٹا بھائی آشيش ودھيارتھی بھی بہن كے ساتھ مدرسہ جاتا ہے۔ والدين چاہتے ہیں كہ وہ بھی قرآن پڑھنا سيكھ جائے۔ مدرسہ میں حفظ كرنے والے بچوں اور بچيوں كو ديكھا ديكھی ہيم لتا كے دل میں یہ خواہيش پيدا ہوئی كہ وہ بھی حفظ كرے
كئی برس پہلے بھی متوسط طبقہ كے چودھری اور ارملا ديوی كے دو بیٹوں نے اردو اور عربی پڑھنے كی كوشش كی تھی ليكن یہ سلسلہ زيادہ دنوں تك نہیں چل سكا تھا۔ ہيم لتا اور ودھيارتی بھی ايك پبلك سكول میں بالترتيب چوتھی اور پہلی كلاس كے طالب علم ہیں ليكن وہ مدرسہ جانے كے لیے وقت نكال ليتے ہیں۔
دوسرے مدارس اور مساجد كے مولوی اس بات پر بہت تعجب نہیں كرتے كہ ہندو بچے قرآن پڑھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں بلكہ اس بات پر كہ كسی نے حفظ كرنے كی خواہش يا كوشش اب تك نہیں كی ہے۔ پٹنہ میں ايك مسجد كے امام حافظ محمد عالم قاسمی نے بتايا كہ ان كے مدرسہ میں بھی ايك ہندو نوجوان جو كالج میں پڑھتا ہے روز قرآن پڑھنے آتاہے۔
ايك پبلك سكول جہاں مسلم بچوں كو قرآن پڑھانے كا بھی نظم ہے كئی ہندو بچے پڑھ رہے ہیں اور اكثر ان بچوں كے والدين انہیں قرآن كی تلاوت كرتے ہوئے سنتے ہیں۔ مدرسہ مدينتہ العلوم كے بانی ابو لبشر نے بتايا كہ كہ اگر ہيم لتا اسی لگن سے حفظ كرتی رہی تو تين سے چار سال میں قرآن حفظ كر سكتی ہے۔