ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق بی بی سی اردو سروس نےلكھا هے ملكہ الزبيتھ كی جانب سے سلمان رشدی كو ادب كی خدمات كے صلے میں سر كا خطاب ديا گيا۔ حكومت پاكستان نے برطانوی حكومت كی جانب سے متنازعہ ناول نگار سلمان رشدی كی ’سر’ كا خطاب دينے كے فيصلے كی مذمت كی ہے۔
ادھر قومی اسمبلی اور كراچی میں سندھ اسمبلی نے متفقہ قرار دادوں میں برطانوی حكومت سے اس فيصلے كی منسوخی كا مطالبہ كيا ہے۔
ملتان میں سلمان رشدی كا پتلہ بھی نذر آتش بھی كيا گيا ہے۔
گزشتہ ہفتے برطانوی حكومت كی طرف سے متنازعہ ناول نگار سلمان رشدی كو نائٹ ہوڈ يا ’سر‘ كا خطاب دينے پر پاكستان میں ردعمل اب سامنے آنا شروع ہوا ہے۔
وزارت داخلہ كی ترجمان تسنيم اسلم نے برطانوی حكومت كے فيصلے كو مسلمانوں كے احساسات كو نظرانداز كرنے كے مترادف قرار ديا اور كہا كہ وہ جلد اپنے احساسات سے برطانوی حكومت كو آگاہ كریں گے۔
تسنم اسلم كا كہنا تھا كہ اس فيصلے سے مذہب كے درميان ہم آہنگی پيدا كرنے كی كوششوں كو دھچكہ لگے گا۔ ’یہ فيصلہ بظاہر دنيا كے مسلمانوں كے جذبات كو مدنظر ركھ كر نہیں اٹھايا گيا ہے اور یہ فريقين كے درميان مفاہمت اور ہم آہنگی كی كوششوں كو نقصان پہنچائے گا‘۔
قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد قرار داد وفاقی وزير برائے پارليمانی امور شير افگن نے پيش كی۔ ان كا كہنا تھا كہ سلمان رشدی كو یہ خطاب دے كر كے عالم اسلام كی دل آزاری كی گئی ہے۔ قرار داد میں سلمان رشدی كی برطانوی شہريت بھی منسوخ كرنے كا مطالبہ كيا گيا ہے۔
ويسے تو تمام اراكين نے اس قرار داد كی حمايت كی ليكن حزب اختلاف كے ركن خواجہ آصف نے محض اتنا كہا كہ یہ حكومت كی دہشت گردی كے خلاف جنگ میں برطانیہ كا ساتھ دينے كی پاليسی میں تضاد كو ظاہر كرتی ہے۔
كراچی سے نامہ نگار رياض سہيل كے مطابق سندھ اسمبلی كے اجلاس كے دوران صوبائی وزير قانون چودھری افتخار، پی پی پی كے مخدوم جميل اور ايم ايم اے كے ركن حميداللہ ایڈووكیٹ نے ايك قرار داد پيش كی جس میں كہا گيا كہ اس فيصلہ سے مسلمانوں كے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پنجاب اسمبلی نے اسی طرز كی ايك متفقہ قرار داد میں برطانوی حكومت كے فيصلے كی مذمت كی گئی تھی۔
ادھر پنجاب كے جنوبی شہر ملتان میں كل شام جعميت طلبہ عربیہ كے طلبہ نے برطانوی حكومت كے فيصلے كے خلاف احتجاج كرتے ہوئے سلمان رشدی كا ايك پتلہ نذر آتش كيا۔