IQNA

12:33 - September 22, 2007
خبر کا کوڈ: 1584289
فكر ونظر گروپ: فتوؤں اور گواھوں كی گواھی میں اختلاف يا علم نجوم كے ماھر كی رائے كو مقدم كرنا،رؤيت ھلال كے مسئلے میں اختلاف كا موجب ھے۔

تھران يونيورسٹی شعبہ كلينڈر اور ھلال كمیٹی كے ناظر حجة الاسلام علی رضا موحد نژاد نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾سے گفتگو كرتے ھوئے ايران اور دنيا كے مختلف ممالك میں رؤيت ھلال كے سلسلے میں كہا كہ بعض ملكوں میں جيسے ليبيا میں مہينے كی پھلی تاريخ كے اثبات كےلئے رؤيت ھلال كو اھميت نھیں دی جاتی بلكہ بعض ليبيائی ماھرين نے پھلی تاريخ كے ثابت ھونے كےلئے جو قاعدہ معين كيا ھے اس پر عمل كيا جاتا ھے۔

لھذا چند دن پھلے ھی یہ اعلان كر ديا جاتا ھے كہ پھلی تاريخ كس دن ھے

انھوں نے مزيد كہا كہ ليبيائی ماھرين كا قاعدہ یہ ھے كہ اگر چاند اور سورج اذان صبح سے پھلے ليبيا كے مشرقی علاقے میں ايك دوسرے كے محاذی طور پر نظر آجائیں تو پھلی تاريخ ثابت ھو جائے گی۔

جناب موحد نژادنے رؤيت ھلال كے اختلاف كے سلسلے میں كہا كہ اختلاف كی ايك دليل فتوؤں كا اختلاف ھے اسلئے كہ بعض مراجع تقليد كا كہنا ھے كہ اگر دنيا كے كسی گوشے میں بھی چاند ديكھا جائے تو پھلی تاريخ ثابت ھو جائے گی اور بعض مراجع كا كہنا ھے كہ جس ملك میں آپ ھیں اگر وھاں چاند دكھائی دے تو اول ماہ ثابت ھوگا

لہذا رؤيت ھلال كا ايك سبب فتوؤں میں اختلاف ھے حجة الاسلام موحدنژاد نے كہا كہ اختلاف كا دوسرا سبب گواھوں كی گواھی سے يقين ھو يعنی بعض مراجع كا كہنا ھے كہ اگر گواھی دينے والے دوھیں تو غلطی كا امكان اگرچہ زيادہ ھے ليكن یہ گواھی قابل قبول ھے اور بعض مراجع كا كہنا ھے كہ اگر گواھی دينے والے زيادہ هوں تو گواھی قابل قبول ھے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: