جنگ نہروان كے باقيماندہ خارجی ابن ملجم مرادی كے ہاتھوں انيس ماہ مبارك رمضان كی رات امام علی ۜ كے زخمی ہونے كے بعد ،یہ زخم درست نہ ہوا اور امام ۜ كو پيغمبر اكرمۖ كی طرف سے دی گئی بشارت ،كہ امامۜ كی سفيد ريش ان كے سر كے خون سے رنگين ہوگی،صحيح ثابت ہوئی –امام ۜ ۳۰ سال امامت اور چار سال نومہينہ خلافت كے عہدہ پر فاﺋز رہ كر شہيد ہوۓ-امام علی ۜ كے پاكيزہ بدن كو رات كی تاريكی میں نجف كے مقام پر دفن كرديا گيا اور یہ مكان، تقريبا ۱۵۰ سال تك عام لوگوں سے پوشيدہ تھا اور فقط بعض خاص شيعہ امام كے دفن كے مقام سے آگاہ تھے –امام علیۜ نے اپنی پوری پربركت زندگی میں اواﺋل اسلام كی جنگوں میں شركت كی اور عرب كے بڑے بڑے مشرك سرداروں كو موت كے گھاٹ اتارا-امام علی ۜ نے پيغمبر اكرمۖ كی رحلت كے بعد مسلمانوں كی اصلاح اور مصلحت كی خاطر ۲۵ سال تك گوشہ نشينی اختيار كرتے ہوۓ ،خاموش رہے ،تيسرے خليفہ كے قتل كے بعد ،لوگوں نے امام ۜ كو خلافت كے لیے منتخب كيا اور اس فتنہ انگيز دور میں ناكثين (عہد وپيمان توڑنے والے)قاسطين(معاویہ اور شام كے لوگ)اور مارقين (خوارج) كی طرف سے تين جنگیں جمل،صفين،اور نہروان ،امام علیۜ پر مسلط ہوﺋیں –امام علیۜ كے فضايل اتنے زيادہ ہیں كہ اس مختصر سی تحرير میں ان كو بيان كرنے كی گنجايش نہیں ہے اور یہاں پر امامۜ كے بارے میں فقط دو كلام پر اكتفا كرتے ہیں: ناظم نيشا پوری نے امام علیۜ كے بارے میں كہا ہے كہ :علی بن ابيطالب ۜ كلام كرنے والے(خطيب )اور مولف پر ايك بھاری اور مشقت طلب بوجھ ہیں اگر وہ ان كے حق كو ادا كرنا چاہے تو كفر اور بیہودہ كلام سے دچار ہوجاﺋيگا اور اگر حق ادا نہ كرے تو خيانت اور ظلم كيا ہے اور ان كے فضايل كی درميانی راہ اس قدر دقيق اور باريك ہے كہ فقط ايك زھين اور ماہر متفكر اس سے عہدہ برا ہوسكتا ہے –اسی طرح نہج البلاغہ كی شرح لكھنے والے ابن ابی الحديد معتزلی كہتے ہیں علیۜ كے فضايل اس قدر عظيم ہیں كہ ايك خطيب اور مولف ان كی فضيلت بيان كرنے میں اپنے آپ كو ان كے مقابلہ میں ،كمزور ،عاجز اور شرمندہ پاتا ہے –دشمنوں نے ان كی عظمت اور بزرگی كے نور كو خاموش كرنے كی جتنی كوشش كی اتنے ہی ان كے فضايل زيادہ مشہور ہوۓ-
مناسب آيات اور روايات:
متن:
امام علیعليه السلام : وَاللَّهِ لاَبنُ أبیطالِبٍ آنَسُ بِالمَوتِ مِنَ الطِّفلِ بِثَدی اُمِّهِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا: خدا كی قسم ابو طالب كا بیٹا موت سے اس سے زيادہ مانوس ہے جتنا ايك بچہ شير مادر سے مانوس ہوتا ہے(نہج البلاغہ ،خطبہ ۵)
متن:
امام حسنعليه السلام : لَقَد فارَقَكُم رَجُلٌ بِالأمسِ لم یَسبِقهُ الأوَّلونَ و لایُدرِكُهُ الآخِرونَ
ترجمه:
امام حسن ۜ نے فرمايا :كل ايك ايسا مرد تم سے جدا ہوگيا ہے كہ سابقہ لوگ اس سے سبقت نہیں ركھتے تھے اور بعد میں آنے والے اس كے مقام كو درك نہیں كرسكتے (احقاق الحق ،ج۱۱ ،ص۸۳)
اقوال زرين:
متن:
امام علیعليه السلام : لاتَعزِم عَلی مالَم تَستَبِنِ الرُّشدُ فِيهِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:جس كام كا صحيح ہونا تمہارے لیے واضح نہیں ہے اسے انجام دينے كا ارادہ نہ كرو(ميزان الحكمۃ ،ح،۱۲۹۲۲)
متن:
امام علیعليه السلام : سَلامَةُ الدّينِ وَالدُّنيا فی مُداراةِ النّاسِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:لوگوں كے ساتھ حسن سلوك سے پيش آنے میں ،دين و دنيا كی سلامتی ہے-(غرر الحكم و درر الكلم ،ح،۵۶۱)
متن:
امام علیعليه السلام : الفِكرُ فِی الخَيرِ یَدعُو إلَی العَمَلِ بِهِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:نيكی كے بارے میں سوچنا ،انسان كو اس كے انجام دينے كی طرف ابھارتا ہے (ميزان الحكمۃ ،ح،۱۶۱۷۹)
متن:
امام علیعليه السلام : دَعِ المُماراةَ و مُجاراةَ مَن لاعَقلَ لَهُ و لاعِلمَ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:بيوقوف اور جاہل سے بحث و مباحثہ نہ كرو (الامالی ،طوسی، ص۸)
متن:
امام علیعليه السلام : أجمِلُوا فِی الخِطابِ تَسمَعُوا جَميلَ الجَوابِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:لوگوں كے ساتھ خوبصورت انداز میں بات كرو تاكہ خوبصورت جواب سنو(غرر الحكم ،ح، ۲۵۶۸)
متن:
امام علیعليه السلام : حُسنُ الظَّنِّ یُخَفِّفُ الهَمَّ و یُنجی مِن تَقَلُّدِ الإثمِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:نيك گمان (حسن ظن) غم و اندوہ كو كم كرتا ہے اور گناہ میں پڑنے سے نجات ديتا ہے (غرر الحكم ،ح،۴۸۲۳)
متن:
امام علیعليه السلام : إقبَل عُذرَ أخيكَ و إنْ لَم یَكُن لَهُ عُذرٌ ، فَالْتَمِس لَهُ عُذراً
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:اپنے بھائی كے عذر كو قبول كرلو اور اگر وہ عذر خواہی نہیں كرتا تو بھی اسے معاف كردو(بحار، ج۷۴ ،ص۱۶۵)
متن:
امام علیعليه السلام : سَیِّئَةٌ تَسوؤُكَ خَيرٌ عِندَ اللَّهِ مِن حَسَنَةٍ تُعجِبُكَ
ترجمه:
مام علی ۜ نے فرمايا: ايسا گناہ جو تجھے غمگين كردے خدا كے نزديك اس نيك عمل سے بہتر ہے جو تجھے مغرور بنا دے (نہج البلاغہ ،حكمت ۴۶)
متن:
امام علیعليه السلام : إرحَم مَن دُونَكَ ، یَرحَمْكَ مَن فَوقَكَ
ترجمه:
اپنے سے نچلا درجه ركهنے والے پر رحم كر تا كه تم سے بلند مرتبه شخص تم پر رحم كرے(غررالحكم و دررالكلم ، ح 2422 .)
متن:
امام علیعليه السلام : إنَّ الحَقَّ لایُعرَفُ بِالرِّجالِ إعرِفِ الحَقَّ تَعرِف أهلَهُ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:حق شخصيات كے ذريعے پہچانا نہیں جاتا،اول حق كو پہچانو تاكہ اس كے صاحب كو پہچان لو-(روضہ الواعظين، ص۳۱)
متن:
امام علیعليه السلام : شِرارُكُم المَشّاؤونَ بِالنَّميمَةِ ، المُفَرِّقُونَ بَينَ الأحِبَّةِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:تم میں سے بد ترين ،چغل خور اور دوستوں كے درميان جدائی ڈالنے والے ہیں(الكافی،ج۲ ص۳۶۹)
متن:
امام علیعليه السلام : ما عُمِرَ مَجلِسٌ بِالغِيبَةِ إلاّخَرِبَ مِنَ الدِّينِ
ترجمه:
امام علی ۜ نے فرمايا:جس محفل میں غيبت ہوتی ہو،دين اس میں برباد ہوجاتا ہے (بحار، ج۷۵ ،ص۲۵۹)