ايك دن ايك صحابی رسول جن كا نام ابن جبير تھا وہ پورے دن روزہ سے رہے اور جب دن بھر كے كاروبار سے تھك كر گھر پہنچے ان كی اہلیہ كھانے كے انتظام میں مصروف ہو گئیں جب تك وہ كھانا لے كر آئیں ابن جبير كو نيند آ گئی ، جب بيدار ہوۓ تو قانون خدا كے مطابق وہ كھانا نہیں كھا سكتے تھے لہذا افطار نہیں كيا اور جا كر سو گۓ یہاں تك كہ صبح ہو گئی ۔ یہ وہ ايام تھے جب مسلمان جنگ خندق كی تياری میں مصروف تھے اور مدينہ كے اطراف میں خندق كھود رہے تھے انہوں نے كل كے روزے كو بھی آج كے روزہ سے ملا ديا ۔ جس سے نقاھت بڑھ گئی مگر وہ خندق كھودنے میں مصروف ہو گۓ اور كچھ دير بعد بھوك اور پياس كی شدت سے بے ہوش ہو كر زمين پر گر گۓ ۔
سب لوگ ان كے ارد گرد جمع ہو گۓ اور ان كی حالت ديكھ كر پريشان تھے ۔ پيغمبر خدا ۜ ان كے سرہانے آۓ اور ان كی حالت ديكھ كر كافی متاثر ہوۓ ۔
ابن جبير پر جو كچھ گذری وہی روزے كے قانون كی تبديلی كا سبب بنا احل لكم ۔ ۔ ۔
181247