ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق بی بی سی اردو نے كہا ہے كہ
جمعہ كی نماز كے بعد صدر مقام پاڑہ چنار اور آس پاس كے علاقوں میں شروع ہونے والی لڑائی كے دوران فريقين ايك دوسرے كے خلاف مارٹرگولوں اور راكٹ لانچروں كا آزادانہ استعمال كر رہے ہیں۔ پولیٹيكل انتظامیہ كے حكام كے مطابق لڑائی كے دوران كم سے كم اٹھائيس افراد ہلاك ہوئے ہیں۔
ہسپتال ذرائع نے بی بی سی كو بتايا كہ اب تك نوے سے زائد افراد كو طبی امداد كے لیے لايا گيا ہے۔
ايك عينی شاہد نے بی بی سی كو بتايا كہ رات بھر پاڑہ چنار اور آس پاس كے علاقوں میں شد يد لڑائی جاری رہی۔اسكے بقول’ فريقين ايك دوسرے كے گھروں پر بھاری ہھتياروں سے حملے كر رہے ہیں جبكہ پاڑہ چنار بازار میں واقع كئی دكانوں سے آگ كے شعلے اٹھ رہے ہیں۔ہم نے پوری رات جاگ كر گزاری ہے اور شہر سے نكلنے كےتمام راستے بند ہوگئے ہیں۔‘
حكومت نے حالات پر قابو پانے كے لیے جمعہ كوكرفيو كے نفاذ كا اعلان كرتے ہوئے سكيورٹی فورسز كے اہلكاروں كو شہر میں داخل ہونے كے لیے روانہ كرديا تھا مگر لڑائی كی شدت كی وجہ سے فوجی جوان چوبيس گھنٹے گزرنے كے باوجود شہر میں داخل ہونے میں كا مياب نہیں ہوئے ہیں۔
تاہم سنيچر كی صبح پاڑہ چنار پر دو گن شپ ہيلی كاپٹروں كی پرواز كے بعد لڑائی كی شدت میں كمی واقع ہونے كی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ كرم ايجنسی كے پولٹيكل ايجنٹ ڈاكٹر فخرالعالم نے بی بی سی كو بتايا: ’گن شپ ہيلی كاپٹر جنگ زدہ علاقوں كے اوپر پروازیں كر رہے ہیں۔
دوسری طرف پاڑہ چنار كو جانے والے تمام راستوں كی بندش كے سبب مقامی لوگوں كو سخت دشواری كا سامنا كرنا پڑ رہا ہے جبكہ اسكول بند ہیں اور بجلی كا نظام درہم برہم ہوگيا ہے۔ ہسپستال ذرائع كا كہنا ہے كہ زخميوں كو طبی امداد فراہم كرنے كے انكے پاس سہوليات ناكافی ہیں اور ايجنسی ہیڈ كوارٹر ہسپتال میں اس وقت بارہ آساميوں كے خالی ہونے كی وجہ سےصرف ايك سرجن ہی فرائص انجام دے رہاہے۔
واضح رہے كہ جمعہ كی نماز كے بعد پاڑہ چنار بازار میں نامعلوم افراد كی فائرنگ كے بعد فرقہ ورانہ لڑائی شروع ہوگئی تھی۔مقامی لوگوں كے مطابق جمعرات كو نامعلوم افراد نے مسجد سے نكلنے والے دو افراد كو گولی مار كر زخمی كرديا تھا جسكے بعد فريقين كے درميان كشيدگی پيدا ہوگئی تھی۔
چھ اپريل كو كرم ايجنسی میں مذہبی جلوس كے مسئلے پر فرقہ وارانہ تشدد كے واقعات پھوٹ پڑے تھے جس میں سركاری اعداد وشمار كے مطابق 84 ہلاك اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبكہ آزاد اور مقامی ذرائع ہلاك نے شدگان كی تعداد ڈیڑھ سو كے قريب بتائی تھی۔