مشروطہ اور آزادی كے حاميوں كی مسلسل جدوجہد كے بعد آخر كار مظفر الدين شاہ قاچار كے حكم سے ۱۴ جمادی الثانی سنہ ۱۳۲۴ ھ-ق كو قومی اسمبلی كی بنياد ركھی گئی-اس كے بعد سے منتخب ہونے والے نمايندوں كی كوشش تھی كہ آﺋين كو تدوين كيا جاۓ ليكن ان كو كئی مشكلات كا سامنا كرنا پڑا –حقيقی آزادی طلب افراد قومی طاقت میں اصافہ كرنے كی كوشش میں تھے ليكن درباری نمايندوں كی كوشش تھی كہ شاہ كے وجود كو قدرت اور طاقت كا محور بنايا جاۓ اور اسمبلی فقط ايك مشاورتی كونسل كی صورت میں ظاہر ہو –آخر كار آزادی طلب افراد كی كاميابی كے ساتھ ۵۱ شقوں پر مشتمل مشروطيت كے آﺋين كا متن آمادہ ہو كر ۱۴ ذيقعدہ سنہ ۱۳۲۴ ھ –ق مظفر الدين شاہ قاچار كی تاﺋيد كے لیے بھيجا گيا –یہ آﺋين چار افراد :صدر اعظم مشير الدولہ ،وزير ماليات ناصر الملك ہمدانی اور اس دور كے سياستدامدار محتشم السطنۃ اور مشير الملك كے ذريعہ انتہائی عزت و شرف سے اسمبلی میں لايا گيا-اسمبلی كے نمايندوں نے اس آﺋين كا استقبال كرتے ہوۓ ايك دوسرے كو مبارك باد دی –اور اس كے بعد جشن منايا گيا اور تہران میں چراغاں كی گئی-