آيت اللہ ٫٫شيخ علی نمازی ٬٬ كی وفات (۲/ذوالحجہ ۱۴۰۵ ھ-ق)

IQNA

آيت اللہ ٫٫شيخ علی نمازی ٬٬ كی وفات (۲/ذوالحجہ ۱۴۰۵ ھ-ق)

12:52 - December 13, 2007
خبر کا کوڈ: 1611335
آيت اللہ نمازی نے ابتدائی اور ثانوی تعليم اپنے شہر شاھرود میں اپنے والد گرامی حاج شيخ محمد(كہ آيات عظام انہیں ،اپنے دور كا سلمان كہتے تھے)اور دوسرے اساتذہ سے حاصل كی-

آيت اللہ نمازی نے ابتدائی اور ثانوی تعليم اپنے شہر شاھرود میں اپنے والد گرامی حاج شيخ محمد(كہ آيات عظام انہیں ،اپنے دور كا سلمان كہتے تھے)اور دوسرے اساتذہ سے حاصل كی-
اس كے بعد وہ مشہد مقدس چلے گۓ اور وہاں پر اپنی غير معمولی صلاحيت كی وجہ سے بہت كم مدت میں فقہ و اصول كے اعلی درجات كو طے كرتے ہوۓ درجہ اجتہاد پر فاﺋز ہوۓ ،اور يوں انہوں نے ۲۲ سال كی عمر میں كتاب ٫٫فقہ استدلالی٬٬ كی تاليف كا آغاز كيا۰اس كے بعد عظيم اساتذہ سے مستفيد ہوۓ كے لیے ،نجف اشرف چلے گۓ –ليكن تبليغ دين كے ساتھ والہانہ عشق ركھنے كے باعث وہ ايران واپس آكر مشہد مقدس میں قيام پذير ہو گۓ- آيت اللہ نمازی علم رياضی ،جيومیٹری ،تاريخ اور خطاطی میں مہارت ركھنے كے ساتھ ساتھ فرانسيسی زبان پر مسلط تھے وہ قديمی طب كے بھی ماہر تھے اور مناظرہ میں بھی غير معمولی قدرت ركھتے تھے –وہ حديث اور رجال حديث كی شناخت میں بھی ماہر تھے –اور تاريخ اسلام كے اساتذہ میں سے شمار ہوتے تھے-آيت اللہ العظمی مرعشی نجفی نے علامہ نمازی كو اپنے دور كا مجلسی قرار ديا تھا –اس مایہ ناز شخصيت كی گرانقدر تاليفات ہمارے درميان موجود ہیں جنمیں سے بعض كے نام یہ ہیں :۱۰ جلدوں پر مشتمل مستدرك سفينۃ النجاۃ ،الاحتجاج بالتاج علی اصحاب اللجاج ،الاعلام الھادیہ فی اعتبار الكتب الاربعۃ اور ابواب رحمت-

نظرات بینندگان
captcha