قائد انقلاب اسلامی كے پہلے درس تفسير كا حصہ اول

IQNA

قائد انقلاب اسلامی كے پہلے درس تفسير كا حصہ اول

13:02 - January 14, 2008
خبر کا کوڈ: 1620513
قائد انقلاب اسلامی كے درس تفسير كے پہلے درس كا حصہ اول اردو زبان میں ترجمہ
پہلا درس
پہلا حصہ
موضوع : تقوی
تقوی يعنی متحرك رہتے ہوۓ پرھيز گاری اختيار كرنا
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے اپنے درس تفسير قرآن میں تقوی كے عنوان پر گفتگو كرتے ہوۓ فرمايا كہ تقوی كا مطلب یہ ہے كہ متحرك رہتے ہوۓ پرھيز گاری اختيار كی جاۓ آپ اپنے درس تفسير میں قرآن پاك كے بنيادی عناوين كو زير بحث لاتے ہیں جن میں سے پہلا عنوان تقوی ہے ان دروس كی اشاعت كا بیڑا { بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی } نے اٹھايا ہے اور تقوی كے عنوان پر قائد انقلاب اسلامی كا یہ پہلا درس تفسير ہے ۔
تقوی :
تقوی كا لفظ ايسا ہے جس كا معاشرہ میں بہت تكرار ہوتا ہے اور تقوی كی تہذيب كو بھی معاشرے میں عام كرنے كی ضرورت ہے میں چاہتا ہوں كہ تقوی كا اس طرح معنی كيا جاۓ جسے آپ آسانی سے سمجھ سكیں ليكن تقوی كا لفظی معنی كيا ہے وہ ايك عليحدہ بحث ہے ۔
تقوی كا مفہوم
: تقوی يعنی متحرك رہتے ہوۓ پرھيز گاری اختيار كرنا ، نہ یہ كہ جمود كا شكار ہو كر پرھيز گار بننے كا خواب ديكھے كيونكہ ايك دفعہ آپ بغير حركت كیے پرھيز گار بنتے ہیں مثلا آپ گھر بیٹھ جائیں اور كسی كے كام سے كام نہ ركھیں اس لیے كہ آپ پہاڑ سے نہ ٹكرا جائیں ، كسی كھائی میں نہ گر جائیں ، ڈرائيونگ يا كوہ پيمائی سے پرھيز كرتے ہیں تاكہ سنگلاخ راستوں سے اپنے دامن كو بچا سكیں یہ ايك قسم كا اجتناب اور پرھيز ہے ليكن اسلام اس كی تلقين نہیں كرتا ۔ بلكہ اسلام كا بيان یہ ہے كہ حوادث و واقعات كا سامنا كرتے ہوۓ پرھيز گاری سے كام لیں جيسے ايك ڈرائيور ، ڈرائيونگ كرتے ہوۓ بعض چيزوں سے اجتناب كرتا ہے اور خود كو بچاتا ہے یہ وہی پرھيز گاری ہے جسے ہم نے پہلے عرض كيا ہے يعنی اپنی بابت خبردار رہنا ، پس یہاں كلمہ پرھيز گاری كا استعمال بالكل ٹھيك ہے ليكن جب ہم ملاحظہ كرتے ہیں تو ديكھتے ہیں كہ پرھيز گاروں كا ترجمہ معمولا متقين كی صورت میں كثرت سے بيان كيا گيا ہے لہذا یہ معنی ذہنوں میں زيادہ جذابيت ايجاد نہیں كرتا میں خود بھی گذشتہ سالوں میں تقوی كو پرواہ كرنے اور پرواہ ركھنے كے معنی میں سمجھتا تھا ليكن بعد میں اس طرف متوجہ ہوا كہ اعتنا كنندگان اور قابل اعتنا دو نامانوس عبارات ہیں اور كلمات كو اس طرح ہونا چاہیے كہ سننے میں سنگين محسوس نہ ہوں بلكہ رائج كلمات ہوں
لہذا تقوی كا معنی یہ ہے كہ متحرك رہتے ہوۓ پرھيز گاری اختيار كرنا اور حركت كرتے وقت خبردار رہنا يعنی مختلف ميدانوں میں متحرك رہیں ليكن خبردار رہتے ہوۓ حركت كریں ، ٹكراٶ ، بے راہ روی ، اپنے آپ كو اور دوسروں كو نقصان پہنچاۓ بغير اور انسانی حدود كے دائرہ میں رہتے ہوۓ حركت كی جاۓ تاكہ گمراہی سے بچا جا سكے اور اس كی وجہ یہ ہےكہ راستہ بہت خطر ناك ، طويل اور تاريك ہے اس تاريك دنيا كا آپ مشاہدہ كر رہے ہیں جس پر مادی طاقتوں نے گرد و غبار كا اضافہ كر ديا ہے ۔وہی طاقتیں اپنے ارادوں كو مسلط كرتی ہیں جس سے بہت سے لوگ گمراہ راستوں پر چل نكلتے ہیں لہذا خبردار رہنے كی ضرورت ہے كتنے ہی لوگ ہیں جو آج كی دنيا میں استكباری راستوں كی حقانيت كو قبول كر چكے ہیں ، یہی بات ہے كہ دنياۓ مغرب كی راہ و روش یہ ہے كہ وہ كسی ايك حقيقت كے خلاف كمر بستہ ہو كر لوگوں كو ابھارتے ہیں قابل غور بات یہ ہے كہ ديكھا جاۓ كہ وہ ايسے كيوں كرتے ہیں ؟
كيا یہی مقصد نہیں ہے كہ وہ چاہتے ہیں كہ انسانوں كے افكار و نظريات كو اپنی طرف متوجہ كریں اور قابل افسوس یہ ہے كہ كئی لوگوں كو انہوں نے اپنی طرف جذب بھی كر ليا ہے اور یہی وہ راہ حقيقت سے گمراہی ہے كيونكہ اگر ذرہ برابر غفلت كی گئی تو گمراہ ہونے كے امكانات پوری طرح مہيا ہیں ، لہذا اگر كوئی شخص چاہتا ہے كہ تقوی اختيار كرے تو پھر قرآن اس كی ہدايت كرتا ہے ليكن جو شخص پرھيز گار نہیں ہے اور آنكھیں بند كر كے آگے بڑھنا چاہتا ہے كيا قرآن اس كی ہدايت كر سكتا ہے ؟ ہر گز نہیں ، كوئی اچھی بات ايسے شخص كے لیے كار گر ثابت نہ ہوگی جس شخص كا دل كسی حقيقت كو قبول كرنے كے لیے تيار نہ ہو وہ كسی حقيقت پر يقين نہیں كر سكتا اور وہ اپنی سر مستی میں اپنی خواہشات يا دوسری كی خواہشات كی خاطر متحرك رہتا ہے تو ايسے شخص كو قرآن ہر گز ہدايت نہیں كرے گا ۔
ہاں قرآن ايك صدا ہےليكن یہ صدا ايسے لوگوں كے لیے حساس نہیں ہوتی ۔ قرآن میں بيان ہوا ہے كہ
٫٫ اولئك ينادون من مكان بعيد ٬٬ ﴿ ۴۴ / فصلت ﴾
یہ ايسے لوگوں كی طرف ہی اشارہ ہے كہ ان كو دور سے صدا دی جاتی ہے ، آپ كبھی كسی آواز كو دور سے سنتے ہیں وہ اپنی طرف سے پوری شد و مد سے كوئی انتہائی اہم ترانہ گنگنا رہا ہے ليكن آپ كے اور اس كے درميان فاصلہ ايك كلو میٹر كا ہے تو یہ اس كی آواز آ رہی ہے ليكن ہو كيا كہہ رہا ہے معلوم نہیں ہو سكتا كيونكہ اس كے الفاظ سنائی نہیں دے رہے بلكہ صرف آواز آ رہی ہے پھر یہی آواز بھی جتنے بھی اچھے انداز سے بيان كی گئی ہو بالكل نہیں سمجھی جا رہی يا جيسے ايك ديوار پر لكير كھينچی گئی ہے آپ اسے دور سے ديكھتے ہیں ليكن جب اس كے قريب جاتے ہیں تو پتا چلتا ہے كہ اس میں تو بڑی محنت سے نقش و نگاری كی گئی ہے جو دور سے دكھائی نہیں ديتی ۔ اسی بنا پر قرآن ان افراد كو كہہ رہا ہے انہیں دور سے صدا دی جاتی ہے اور وہ كچھ نہیں سن پاتے لہذا انہیں چاہیے كہ وہ خبردار رہیں تاكہ ھدايت پا سكیں ۔
مصدر : دفتر قائد انقلاب اسلامی سائیٹ
نظرات بینندگان
captcha