{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے شعبہ خراسان رضوی كی رپورٹ كے مطابق یہ قرآن كشميری ہنر كا بہترين عكاس ہے جو اول سے آخر تك سنہری قلم سے تحرير كيا گيا ہے ۔ اس قرآنی نسخہ كے جلی حروف میں سيد جعفر محمد خان بن سيد محمد باقر محمد خان حسينی نے يكم ربيع اللاول سن ۱۱۴۸ ھ ق میں تحرير كيا ہے اس قرآن پر لكھی گئی تاريخ اختتام كو دو صورتوں میں بيان كيا گيا ہے
۱ : تمام القرآن بجميل مدد السبحان
۲ : و تمت كلمة ربہ
قرآن كے ابتدائی اور آخر كے صفحات كو بہترين سنہری نقش و نگاری سے پيش كيا گيا ہے اور باقی تمام صفحات پر مذكورہ انداز سے ہٹ كر ايك اور نقش و نگاری پيش كی گئی ہے ہر صفحہ ۹ سطروں پر مشتمل ہے اور بين السطور طلا كوبی كی گئی ہے ، قرآن كی جلد بہترين چمڑے سے تيار كی گئی ہے مذكورہ قرآن كو سن ۱۱۴۸ ھ ق میں خدا يار خان بہادر ثابت جنگ عباسی نے آستانہ قدس رضوی كے لیے وقف كيا تھا ۔
216937