یہ ہڑتال امام خمينی (رح) كی گرفتاری كے خلاف اور 15 خرداد (5 جون ) كے واقعات میں شہيد ہونے والے افراد كی ياد میں كی گئی ۔
ہڑتال اتنی شديد تھی كہ شاہی حكومت ہل كر رہ گئی ، لوگوں نے بانی انقلاب حضرت امام خمينی (رح) كی گرفتاری اور ہزاروں نہتے افراد كی شہادت پر شاہی حكومت كے خلاف غم وغصے كا اظہار كيا۔
اس كے ساتھ قم و مشہد سميت دوسرے شہروں سے اعلیٰ پائے كے علمائے دين اور اكابرين تہران آكر حكومت پر دباؤ بڑھانے لگے ۔
عراق كی دينی درسگاہوں اور مجتہدين كی طرف سے بھی امام خمينی (رح) كے ساتھ يك جہتی كا اعلان كياگيا اور ايران كے ہر شہر میں احتجاج كی لہریں اٹھنے لگیں ۔بالآخرہ عوام اور علما كے دباؤ كی وجہ سے ظاہرا" امام خمينی (رح) كو رہا كيا گيا۔