حضرت علی علیہ السّلام كی سوانح حيات

IQNA

حضرت علی علیہ السّلام كی سوانح حيات

12:04 - July 08, 2008
خبر کا کوڈ: 1667264
پيغمبر اسلام (ص) نے آپ كا نام اللہ كے نام پر علی ركھا۔ حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد نے پيغمبر اسلام (ص) سے عرض كيا كہ ہم نے ہاتف غيبی سے یہی نام سنا تھا۔



القاب

آپ كے مشہور القاب امير المومنين ، مرتضی، اسد اللہ، يد اللہ، نفس اللہ، حيدر، كرار، نفس رسول اور ساقی كوثر ہیں۔

كنيت
حضرت علی علیہ السّلام كی مشہور كنيت ابو الحسن و ابو تراب ہين۔

والدين

حضرت علی (ع) ھاشمی خاندان كے وه پھلے فرزند ھیں جن كے والد اور و الده دونوں ھاشمی ھیں ۔ آپ كے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ھاشم ھیں اور ماں فاطمه بنت اسد بن ھاشم ھیں ۔

ھاشمی خاندان قبيل ہ قريش میں اور قريش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل كے لحاظ سے مشھور و معروف تھے ۔

جواں مردی ، دليری ، شجاعت اور بھت سے فضائل بنی ھاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) كی ذات مبارك میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

ولادت

جت حضرت علی (ع) كی ولادت كا وقت قريب آيا تو فاطمه بنت اسد كعبه كے پاس ائیں اور آپنے جسم كو اس كی ديوار سے مس كر كے عرض كيا:

پروردگارا ! میں تجھ پر، تيرےنبيوں پر، تيری طرف سے نازل شده كتابوں پر اور اس مكان كی تعمير كرنے والے، آپنے جد ابراھيم (ع) كے كلام پر راسخ ايمان ركھتی ھوں ۔

پروردگارا ! تجھے اس ذات كے احترام كا واسطہ جس نے اس مكان مقدس كی تعمير كی اور اس بچه كے حق كا واسطه جو ميرے شكم میں موجود ھے، اس كی ولادت كو ميرے لئے آسان فرما ۔

ابھی ايك لمحہ بھی نھیں گزرا تھا كه كعبہ كی جنوبی مشرقی ديوار ، عباس بن عبد المطلب اور يزيد بن تعف كی نظروں كے سامنے شگافته ھوئی، فاطمه بنت اسد كعبہ میں داخل ھوئیں اور ديوار دوباره مل گئی ۔ فاطمه بنت اسد تين دن تك روئے زمين كے اس سب سے مقدس مكان میں اللہ كی مھمان رھیں اور تيره رجب سن ۳۰/ عام الفيل كو بچہ كی ولادت ھوئی ۔ ولادت كے بعد جب فاطمه بنت اسد نے كعبہ سے باھر آنا چاھا تو ديوار دو باره شگافتہ ھوئی، آپ كعبه سے باھر تشريف لائیں اور فرمايا :” میں نے غيب سے یہ پيغام سنا ھے كه اس بچے كا ” نام علی “ ركھنا “ ۔

بچپن ا ور تربيت

حضرت علی (ع) تين سال كی عمر تك آپنے والدين كے پاس رہے اور اس كے بعد پيغمبر اسلام (ص) كے پاس آگئے۔ كيون كہ جب آپ تين سال كے تھےاس وقت مكہ میں بھت سخت قحط پڑا ۔جس كی وجہ سے رسول الله (ص) كے چچا ابو طالب كو اقتصادی مشكل كابہت سخت سامنا كرنا پڑا ۔ رسول الله (ص) نے آپنے دوسرے چچا عباس سے مشوره كرنے كے بعد یہ طے كيا كہ ھم میں سے ھر ايك، ابو طالب كے ايك ايك بچے كی كفالت آپنے ذمہ لے لے تاكہ ان كی مشكل آسان ھو جائے ۔ اس طرح عباس نے جعفر اور رسول الله (ص) نے علی (ع) كی كفالت آپنے ذمہ لے لی ۔

حضرت علی (ع) پوری طرح سے پيغمبر اكرم (ص) كی كفالت میں آگئے اور حضرت علی علیہ السّلام كی پرورش براهِ راست حضرت محمد مصطفےٰ كے زير نظر ہونے لگی ۔ ا ٓ پ نے انتہائی محبت اور توجہ سے آپنا پورا وقت، اس چھوٹے بھائی كی علمی اورا خلاقی تربيت میں صرف كيا. كچھ تو حضرت علی (ع) كے ذاتی جوہر اور پھراس پر رسول جيسے بلند مرتبہ مربیّ كافيض تربيت ، چنانچہ علی علیہ السّلام دس برس كے سن میں ہی اتنی بلندی پر پہنچ گئے كہ جب پيغمبر اسلام (ص) نے رسالت كا دعوی ك يا، تو آپ نے ان كی تصديق فرمائ ۔ آپ ھميشه رسول الله (ص) كے ساتھ رھتے تھے، یہاں تك كہ جب پيغمبر اكرم (ص) شھر سے باھر، كوه و بيابان كی طرف جاتے تھے تو آپ كو آپنے ساتھ لے جاتے تھے ۔


پيغمبر اكرم (ص) كی بعثت اور حضرت علی (ع)

جب حضرت محمد مصطفے ( ص ) چاليس سال كے ہوئے تو اللہ نے انہیں عملی طور پر آپنا پيغام پہنچانے كے لئے معين فرمايا ۔ اللہ كی طرف سے پيغمبر (ص) كو جو یہ ذمہ داری سونپی گئ ، اسی كو بعثت كہتے ہیں .

حضرت محمد (ص) پر وحی الٰھی كے نزول و پيغمبری كے لئے انتخاب كے بعدكی تين سال كی مخفيانہ دعوت كے بعد بالاخرخدا كی طرف سے وحی نازل ھوئ اور رسول الله (ص) كو عمومی طور پر دعوت اسلام كا حكم ديا گيا ۔

اس دوران پيغمبراكرم (ص) كی الٰھی دعوت كے منصوبوں كو عملی جامہ پھنانے والے تنھا حضرت علی (ع) تھے۔ جب رسول الله (ص) نے اپنے اعزاء و اقرباء كے درميان اسلام كی تبليغ كے لئے انہیں دعوت دی تو آپ كے ھمدرد و ھمدم، تنھا حضرت علی (ع) تھے ۔

اس دعوت میں پيغمبر خدا (ص) نےحاضرين سے سوال كيا كہ آپ میں سے كون ہے جو اس راه میں ميری مدد كرے اور آپ كے درميان ميرا بھائی، وصی اور جانشين ھو؟

اس سوال كا جواب فقط حضرت علی (ع) نے ديا :” اے پيغمبر خدا ! میں اس راه میں آپ كی نصرت كروں گا ۔ پيغمبر اكرم (ص) نے تين مرتبه اسی سوال كی تكرار اور تينوں مرتبہ حضرت علی (ع) كا جواب سننے كے بعد فرمايا :

اے ميرے خاندان والوں ! جان لو كه علی ميرا بھائی اور ميرے بعد تمھارے درميان ميرا وصی و جانشين ھے ۔

علی (ع) كے فضائل میں سے ايك یہ بھی ھے كہ آپ (ع) رسول الله (ص) پر ايمان لانے والے سب سے پھلے شخص ھیں ۔ اس سلسلے میں ابن ابی الحديد لكھتے ھیں :

”بزرگ علماء اور گروه معتزلہ كے متكلمين كے درميان اس میں كوئی اختلاف نھیں ھے كہ علی بن ابی طالب (ع) وه پھلے شخص ھیں جو پيغمبر اسلام پر ايمان لائے اور پيغمبر خدا (ص) كيتصديق كی “۔

رسول اسلام كی بعثت، زمانہ , ماحول, شہر اور آپنی قوم و خاندان كے خلاف ايك ايسی مہم تھی ، جس میں رسول كا ساتھ دينے والا كوئی نظر نہ ی اتا تھا ۔ بس ايك علی علیہ السّلام تھے كہ جب پيغمبر نے رسالت كا دعویٰ كيا تو انہوں نے سب سے پہلے ا ن كی تصديق كی اور ان پر ايمان كااقراركيا . دوسری ذات جناب خديج ۃ ال كبریٰ كی تھی، جنھوں نے خواتين كے طبقہ میں سبقتِ اسلام ك ا شرف حاصل كيا۔

پيغمبر كادعوائے رسالت كرنا تھا كہ مكہ كا ہر آدمی رسول كادشمن نظر انے لگا . وہی لوگ جو كل تك آپ كی سچائی اورامانتداری كادم بھرتے تھے اج آپ كو ( معاذ الله ( يوانہ، جادو گر اور نہ جانے كيا كيا كہنے لگے۔ اللہ كے رسول كے راستوں میں كانٹے بچھائے جاتے، انہیں پتھر مارے جاتے اور ان كے سر پر كوڑا كركٹ پھينكا جاتا تھا. اس مصيبت كے وقت میں رسول ك ے شريك صرفاور صرف حضرت علی علیہ السّلام تھے، جو بھائی كاساتھ دينے میں كبھی بھی ہمت نہیں ہار تے تھے ۔ وہ ہميشہ محبت ووفاداری كادم بھرتے رہےاور ہرموقع پر رسول كے سينہ سپر رہے۔ یہاں تك كہ وہ وقت بھی ايا جب مخالف گروہ نے انتہائی سختی كے ساتھ یہ طے كرليا كہ پيغمبر اور ان كے تمام گھر والوں كا بائيكاٹ كيا جائے۔ حالات اتنے خراب تھے كہ جانوں كے لالے پڑ گئے تھے .حضرت ابو طالب علیہ السّلام نے آپنے تمام ساتھيوں كو حضرت محمدمصطفےٰ سميت ايك پہاڑ كے دامن میں محفوظ قلعہ میں بند كرديا۔ وہان پر تين برس تك قيد وبند كی زندگی بسر كرنی پڑی . كيون كہ اس دوران ہر رات یہ خطرہ رہتا تھا كہ كہیں دشمن شب خون نہ مار دے . اس لئے ابو طالب علیہ السّلام نے یہ طريقہ اختيار كيا تھا كہ وہ رات بھر رسول كو ايك بستر پر نہیں رہنے ديتے تھے، بلكہ ك بھی رسول كے بستر پر جعفر كو اور جعفر كے بستر پر رسول كو ك بھی عقيل كے بستر پر رسول كو اور رسول كے بستر پر عقيل كو ك بھی علی كے بستر پر رسول كو اور رسول كے بستر پر علی علیہ السّلام كو لٹا تے رہتے تھے. مطلب یہ تھا كہ اگر دشمن رسول كے بستر كا پتہ لگا كر حملہ كرنا چاہے تو ميرا كوئ بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول كا بال بيكانہ ہونے پائے . اس طرح علی علیہ السّلام بچپن سے ہی فدا كاری اور جان نثاری كے سبق كو عملی طور پر دہراتے رہے .

رسول كی ہجرت اور حضرت علی (ع)

حضرت علی (ع) كے ديگر افتخارات میں سے ايك یہ ھے كہ جب شب ھجرت مشرك دشمنوں نے رسول الله (ص) كے قتل كی سازش رچی تو آپ (ع) نے پوری شجاعت كے ساتھ رسول الله (ص) كے بستر پر سو كر انكی سازش كو نا كام كر ديا۔

حضرت ابو طالب علیہ السّلام كی وفات سے پيغمبر كا دل ٹوٹ گيا اور آپ نے مدينہ كی طرف ہجرت كاارادہ كرليا ۔ دشمنوں نے یہ سازش رچی كہ ايك رات جمع ہو كر پيغمبر كے گھر كو گھير لیں اور حضرت كو شہيد كرڈالیں۔ جب حضرت كو اس كی اطلاع ہوئی تو آپ نے آپنے جاں نثار بھائی علی علیہ السّلام كو بلا كر اس سازش كے بارے میں اطلاع دی اور فرمايا كہ ميری جان اس طرح بچ سكتی ہے اگر آج رات آپ ميرے بستر پر ميری چادر اوڑھ كر سو جاؤ اور میں مخفی طور پر مكہ سے روانہ ہوجاؤں . كوئی دوسرا ہوتاتو یہ پيغام سنتے ہی اس كا دل دہل جاتا، مگر علی علیہ السّلام نے یہ سن كر كہ ميرے ذريعہ سے رسول كی جان كی حفاظت ہوگی، خدا كاشكر ادا كيا اور بہت خوش ہوئے كہ مجھے رسول كافدیہ قرار ديا جارہا ہے۔ یہی ہوا كہ رسالت ماب شب كے وقت مكہ معظمہ سے مدينہ منورہ كی طرف روانہ ہوگئے اور علی بن ابی طالب علیہ ما السّلام رسول كے بستر پر سوئے۔ چاروں طرف خون كے پياسے دشمن تلواریں كھينچے نيزے لئے ہوئے مكان كوگھيرے ہوئے تھے . بس اس بات كی دير تھی كہ ذرا صبح ہو اور سب كے سب گھر میں داخل ہو كر رسالت ما ٓ ب كو شہيد كر ڈالیں . علی علیہ السّلام اطمينان كے ساتھ بستر پرارام كرتے رہے اور اپنی جان كا ذرا بھی خيال نہ كيا۔ جب دشمنوں كو صبح كے وقت یہ معلوم ہوا كہ محمد نہیں ہیں تو انھوں نے آپ پر یہ دباؤ ڈالا كہ آپ بتلادیں كہ رسول كہا ںگئے ہیں ? مگر علی علیہ السّلام نے بڑے بہادرانہ انداز میں یہ بتانے سے قطعيطور پر انكار كرديا . اس كا نتيجہ یہ ہواكہ رسول الله (ص) مكہ سے كافی دور تك بغير كسی پريشانی اور ركاوٹ كے تشريف لے جاسكیں.علی علیہ السّلام تين روز تك مكہ میں رہے . جن لوگوں كی امانتیں رسول الله كے پاس تھیں ان كے سپرد كر كےخواتين ُبيت ُ رسالت كو آپنے ساتھ لے كرمدينہ كی طرف روانہ ہوئے . آپ كئ روز تك رات دن پيدل چلے كر اس حالت میں رسول كے پاس پہنچے كہ آپ كے پيروں سے خون بہ رہا تھا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے كہ علی علیہ السّلام پر رسول كو سب سے زيادہ اعتماد تھااور جس وفاداری , ہمت اور دليری سے علی علیہ السّلام نے اس ذمہ داری كو پورا كيا ہے وہ بھی آپنی آپ میں ايك مثال ہے۔

شادی
جب رسول اكرم (ص) ہجرت كر كے مدينے گئے تو فاطمہ زہرا السّلام اللہ عل یہا بالغ ہو چكی تھیں اور پيغمبر(ص) اپنی اكلوتی بیٹی فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ك ی شادی كی فكر میں تھے.كيوں كہ رسول(ص) اپنی بیٹی س ے بہت محبت كر تے تھے اور انہیں اتنی عزت ديتے تھے كہ جب فاطمہ زہرا السّلام اللہ علیہا ان كے پاس تشريف لاتی تھیں تو رسولاللہ (ص)ان كی تعظيم كے ل ئے كھڑے ہوجاتے تھے .اس لئے ہر شخص رسول كی اس معزز بیٹی كے ساتھ منسوب ہونے كا شرف حاصل كرنے كی تمنا میں تھا. كچھ لو گوں نے ہمت كر كے سول كو پيغام بھی ديا مگر حضرت نے سب كی خواہشوں كو رد كرديا اور فرمايا كہ فاطمہ كی شادی اللہ كے حكمِ بغير نہیں ہوسكتی ۔

عمر و ابوبكر قبيلہ اوس كے سردار سعد بن معاذ سے مشوره كرنے كے بعد اس نتيجے پر پھونچ چكے تھے كہ علی (ع) كے سوا كوئی بھی زھرا (س) كے ساتھ ازدواج كی لياقت نھیں ركھتا۔ ايك دن جب حضرت علی (ع) انصار رسول (ص) میں سے كسی كے باغ میں آبياری كر رھے تھےتو انھوں نے اس موضوع كو آپ (ع) كے سامنے چھیڑا اور آپ نے فرمايا :

” میں بھی دختر رسول (ص) سے شادی كا خواھاں ھوں ، یہ كہہ كر آپ رسول الله (ص) كے گھر كی طرف روانہ ہو گئے۔

جب رسول الله (ص) كی خدمت میں پھونچے تو رسول الله (ص) كی عظمت اس بات میں مانع ھوئی كه آپ (ع) كچه عرض كریں ۔جب رسول الله (ص) نے آنے كی وجہ دريافت كی تو حضرت علی (ع) نے اپنے فضائل، تقویٰ اور اسلام كے لئے آپنے سابقہ كارناموں كی بنياد پرعرض كيا : ” آيا آپ فاطمه كو ميرے عقد میں دينا بہتر سمجھتے ہیں ؟“

حضرت زھرا (س) كی رضامندی كے بعد رسول الله (ص) نے یہ رشتہ قبول كر ليا۔

ہجرت كا پہلا سال تھا كہ رسول نے علی علیہ السّلام كو اس عزت كے لئے منتخب كيا . یہ شادی نہايت سادگی كے ساتھ انجام دی گئ . حضرت فاطمہ (س) كا مہر حضرت علی علیہ السّلام سے لے كر اسی سے ُ كچھ گھر كا سامان خريدا گيا جسے جہيز طور پر ديا گيا۔ وہ سامان بھی كياتھا ؟ كچھ مٹی كے برتن ، خرمے كی چھال كے تكیے، چمڑے كابستر، چرخہ، چكی اور پانی بھرنے كی مشك . حضرت زہرا (س) كا مہر ايك سو سترہ تولے چاندی قرار پايا، جسےحضرت علی علیہ السّلام نے آپنی زرہ فروخت كر كے ادا كيا ۔

كتابت وحی

وحی الٰھی كی كتابت اور بھت سے تاريخی و سياسی اسناد كی تنظيم اور دعوت الٰھی كے تبليغی خطوط لكھنا، حضرت علی (ع) كے بھت اھم كاموں میں سے ايك ھے ۔ آپ (ع) قرآنی آيات كو لكھتے اور منظم و كرتے تھے اسی لئے آپ كو كاتبان وحی اور حافظان قرآن میں شمار كيا جاتا ھے ۔

حضرت علیہ ااسلام ، پيغمبراسلام (ص) كے بھائ

پيغمبراسلام (ص) نےمدينے پہنچ كر مسلمانوں كے درميان بھائ كا رشتہ قائم كيا۔ عمر كو ابو بكر كا بھائ بنا بنا ياطلہ كو زبير كا بھائ قرار ديا و۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور حضرت علی (ع)كو رسول الله (ص) نے اپنا بھائ بنايا اور حضرت علی (ع) سے فرمايا :

” تم دنيا اور آخرت میں ميرے بھائی ھو، اس خدا كی قسم جس نے مجھے حق كے ساتھ مبعوث فرمايا ۔۔۔ میں تمھیں آپنی اخوت كے لئے انتخاب كرتا ھوں ، ايك ايسی اخوت جو دونوں جھان میں بر قرار رھے “۔

.
حضرت علی علیہ السلام اور اسلا می جہاد
اسلام كے دشمنوں نے پيغمبراسال (ص) كو مدينہ میں چين سے نہ بیٹھنے ديا. جو مسلمان مكہ میں تھے انھیں طرح طرح كی تكليفیں دی گئیں كچھ كو قتل كر ديا گيا، كچھ كو قيدی بنا لياگيا اور كچھ كو مارا پیٹاگيا. یہی نہیں بلكہانہوں نے اسلحہ اور فوج جمع كر كے خود رسول كے خلاف مدينہ پر چڑاھئی كردی۔ اس موقع پر رسول اللہ (ص) كا اخلاقی فرض تھا كہ وہ مدينہ والوں كے گھروں كی حفاظت كریں، كيوں كہ انھوں نے آپ كو پريشانی كے عالم میں پنا ہ دی تھی اور آپ كی نصرت و مداد كاوعدہ كيا تھا، لہذا آپ نے یہ كسی طرح پسند نہ كيا كہ آپ شہر كے اندر رہ كر دشمن كا مقابلہ كریں اور دشمن كو مدينہ كی پر امن ابادی میں داخل ہونے اور عورتوں اور بچوں كو پريشان كرنے كا موقع دیں. آپ كے ساتھيوں تعداد بہت كم تھی۔ آپ كے پاس كل تين سو تيرہ آدمی تھے اور مب كے پاس ہتھيار بھی نہیں تھے، مگر آپ نے یہ طے كيا كہ ہم مدينے سے باہر نكل كر دشمن كا مقابلہ كریں گے۔ چنانچہ یہ اسلام كی پہلی جنگ ہوئی جوآگے چل كر جنگِ بدر كے نام سے مشہور ہوئ . اس جنگ میں رسول اللہ (ص) نے آپنے عزيزوں كو زيادہ آگے ركھا، جس كی وجہ سے آپ كے چچا زاد بھائی عبيد ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہيد ہوگئے . علی علیہ السّلام ابن ابی طالب كو جنگ كا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس وقت ان كی عمر صرف ۲۵برس تھی مگر جنگ كی فتح كا سہرا علی علیہ السّلام كے سر ہی بندھا۔ جتنے مشركين قتل ہوئے ان میں سے ادھےحضرت علی علیہ السّلام كے ہاتھ سے اور ادھے، باقی مجاہدين كے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ اس كے بعد ،اُحد، خندق،خيبراور اخر میں حنين یہ وہ بڑی جنگیں تھیں جن میں حضرت علی علیہ السّلام نے رسول كے ساتھ رہ كر اپنی بہادری كے جوہر دكھا ئے۔ تقريباً ان تمام جنگوں میں علی علیہ السّلام كو علمداری كا عہدہ بھی حاصل رہا . اس كے علاوہ بہت سی جنگیں ايسی تھیں جن میں رسول نےحضرت علی علیہ السّلام كو تنہا بھيجا اورانھوں نے اكيلے ہی بہادری اور ثابت قدمی كے ساتھ فتح حاصل كی اور استقلال،تحمّل اور شرافت ُ نفس كا وہ مطاہرہ كيا كہاس كا اقرار خود ان كے دشمن كو بھی كرنا پڑا۔ جب خندق كی جنگ میں دشمن كے سب سے بڑے سورماعمر وبن عبدود كو آپ نے مغلوب كر ليا اور اس كاسر كاٹنے كے لیے اس كے سينے پرسوار ہوئے تو اس نے آپ كے چہرے پر لعب دہن پھينك ديا۔ آپ كو غصہ اگيا اور آپ اس كے سينے سے اتر ا ٓئے . صرف اس خيال سے كہ اگراس غصّےكی حالت میں اس كو قتل كيا تو یہ عمل خواہش نفس كے مطابق ہوگا، خدا كی راہ میں نہ ہوگا۔ اسی لئے آپ نے اس كو كچھ دير كے بعد قتل كيا۔ اس زمانے میں دشمن كو ذليل كرنے كے لیے اس كی لاش كو برہنہ كرديتے تھے، مگر حضرت علی علیہ السّلام نے اس كی زرہ نہیں اُتاری جبكہ وہ بہت قيمتی تھی . چناچہجب عمرو كی بہن آپنے بھائی كی لاش پر ائی تو اس نے كہا كہاگر علی كے علاوہ كسی اور نے ميرے بھائی كوقتل كيا ہوتا تو میں عمر بھر روتی، مگر مجھے یہ ديكھ كر صبر اگيا كہ اس كاقاتل شريف انسان ہے جس نے آپنے دشمن كی لاش كی توہين گوارا نہیں كی۔ آپ نے كبھی دشمن كی عورتوں يابچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا يا اور نہ كبھی مالِ غنيمت كی طرف رخ كيا .

غدير خم



پيغمبر اكرم (ص) آپنی پر بركت زندگی كے آخری سال میں حج كا فريضہ انجام دينے كے بعد مكہ سےمدينے كی طرف پلٹ رہے تھے، جس وقت آپ كا قافلہ جحفه كے نزديك غدير خم نامی مقام پر پہنچا تو جبرئيل امين یہ آیہ بلغ ليكرنازل ہوئے، پيغمبر اسلام (ص)نے قافلےكو ٹھرنے كا حكم ديا ۔

نماز ظھر كے بعد پيغمبر اكرم (ص) اونٹوں كے كجاوں سے بنے منبر پر تشريف لے گئے اور فرمايا :

” ایھا الناس ! وہ وقت قريب ھے كه میں دعوت حق پر لبيك كہتے ھوئے تمھارے درميان سے چلا جاؤں ،لہذا بتاو كہ ميرے بارے میں تمہاری كيا رای ہے؟ “

سب نے كہا :” ھم گواھی ديتے ھیں آپ نے الٰھی آئين و قوانين كی بہترين طريقے سے تبليغ كی ھے “ رسول الله (ص) نے فرمايا ” كيا تم گواھی ديتے ہو كہ خدائے واحد كے علاوہ كوئی دوسرا خدا نھیں ھے اور محمد خدا كا بندہ اور اس كا رسول ھے “۔

پھر فرمايا: ” ایھا الناس ! مومنوں كے نزديك خود ان سے بھتر اور سزا وار تر كون ھے ؟“۔

لوگوں نے جواب ديا :” خدا اور اس كا رسول بھتر جانتے ھیں “۔

پھر رسول الله (ص) نے حضرت علی (ع) كے ھاتھ كو پكڑ كر بلند كيا اور فرمايا

:” ایھا الناس ! من كنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ جس جس كا میں مولا ہوں اس اس كے یہ علی مولا ہیں“ ۔

رسول الله (ص) نے اس جملے كی تين مرتبہ تكرار كی ۔

اس كے بعد لوگوں نے حضرت علی (ع) كواس منصب ولايت كے لئے مبارك باددی اور آپ (ع) كے ھاتھوں پر بيعت كی ۔

حضرت علی علیہ السلام، پيغمبر اسلام (ص) كی نظر میں

علی علیہ السّلام كے امتيازی صفات اور خدمات كی بنا پر رسول ان كی بہت عزت كرتے تھے او آپنے قول اور فعل سے ان كی خوبيوں كو ظاہر كرتے رہتے تھے كبھی یہ كہتے تھے كہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .كبھی یہ كہا كہ »میں علم كاشہر ہوں اور علی اس كا دروازہ ہے . كبھی یہ كہا »آپ سب میں بہترين فيصلہ كرنے والا علی ہے . كبھی یہ كہا»علی كومجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون كو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی . كبھی یہ كہا»علی مجھ سے وہ تعلق ركھتے ہیں جو روح كو جسم سے ياسر كو بدن سے ہوتا ہے .,,
كبھی یہ كہ»وہ خدا اور رسول كے سب سے زيادہ محبوب ہیں ,, یہاں تك كہ مباہلہ كے واقعہ میں علی علیہ السّلام كو نفسِ رسول كاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا كہ جب مسجدكے صحن میں كھلنے والے، سب كے دروازے بند ہوئے تو علی كادروازہ كھلا ركھا گيا . جب مہاجرين وانصار میں بھائی كا رشتہ قائم كيا گيا تو علی علیہ السّلام كو پيغمبر نے آپنا بھائی قرار ديا۔ اور سب سے اخر میں غدير خم كے ميدان میں مسلمانوں كے مجمع میں علی علیہ السّلام كو اپنے ہاتھوں پر بلند كر كے یہ اعلان فرما ديا كہ جس طرح میں تم سب كا حاكم اور سرپرست ہوں اسی طرح علی علیہ السّلام، تم سب كے سرپرست اور حاكم ہیں۔ یہ اتنا بڑا اعزاز ہے كہ تمام مسلمانوں نے علی علیہ السّلام كو مبارك باد دی اور سب نے سمجھ ليا كہ پيغمبر نے علی علیہ السّلام كی ولی عہدی اور جانشينی كااعلان كرديا ہے .


رسول اللہ (ص)كی وفات اور حضرت علی علیہ السلام

ہجرت كا دسواں سال تھا كہ پيغمبر خدا (ص)ايك ايسے مرض میں مبتلا ہوئے، جو ان كے لئے مرض الموت ثابت ہوا۔ یہ خاندان ُ رسول كے لئے بڑی مصيبت كاوقت تھا۔ حضرت علی علیہ السّلام رسول كی بيماری میں آپ كے پاس موجود رہ كر تيمارداری كا فريضہ انجام دے رہے تھے۔ اور رسول اللہ (ص) بھی آپنے پاس سے ايك لمحہ كے لئے بھی حضرت علی علیہ السّلام كا جدا ہونا گوارانہیں كرتے تھے . پيغمبر اسلام (ص) نے علی علیہ السّلام كو آپنے پاس بلايا اور سينے سے لگا كر بہت دير تك باتیں كرتے رہے اور ضروری وصيتیں فرمائیں . اس گفتگو كے بعد بھی حضرت علی علیہ السّلام كو آپنے سے جدا نہ ہونے ديا اور ان كا ہاتھ اپنے سينے پر ركھ ليا. جس وقت رسول اللہ (ص) كی روح جسم سے جداہوئی، اس وقت بھی حضرت علی علیہ السّلام كاہاتھ رسول كے سينے پر ركھاہوا تھا۔

جس نے زندگی بھر پيغمبر كا ساتھ ديا ہو، وہ بعد رسول ان كی لاش كو كس طرح چھوڑ سكتا تھا، لہذا رسول كی تجہيز وتكفين اور غسل كا تمام كام علی علیہ السّلام نےاپنے ہاتھوں سے انجام ديا اور رسول اللہ (ص)كواپنے ھاتھوں سے قبر میں ركھ كر دفن كر ديا۔

حضرت علی علیہ السلام كی طاہری خلافت
رسول اللہ (ص) كے بعدحضرت علی علیہ السّلام نے پچيس برس خانہ نشينی میں بسر كئے۔ جب سن ۳۵ ھجری قمری میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی كامنصب حضرت علی علیہ السّلام كے سامنے پيش كيا تو پہلےتو آپ نے انكار كر ديا، ليكن جب مسلمانوں كااصرار بہت بڑھا تو آپ نے اس شرط سے منظو ركرليا كہ میں قران اور سنت ُ پيغمبر(ص) كے مطابق حكومت كروں گا اور كسی رورعايت سے كام نہ لوں گا۔ جب مسلمانوں نے اس شرط كو منظور كر ليا تو آپ نے خلافت كی ذمہ داری قبول كی- مگر زمانہ آپ كی خالص دينی حكومت كو برداشت نہ كرسكا، لہذا بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ، جنھیں آپ كی دينی حكومت كی وجہ سے آپنے اقتدار كے ختم ہوجانے كا خطرہمحسوس ہو گيا تھا، وہ آپ كے خلاف كھڑے ہوگئے۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ كرنااپنا فرض سمجھا،جس كے نتيجے میں جمل، صفين، اور نہروان كی جنگیں ہوئیں . ان جنگوں میں حضرت علی بن ابی طالب علیہما السّلام نے اس شجاعت اور بہادری سے جنگ كی جو بدر، احد، خندق، وخيبرمیں كسی وقت ديكھی جاچكی تھی اور زمانہ كو ياد تھی .ان جنگوں كی وجہ سے آپ كو اتنا موقع نہ مل سكا كہ آپ اس طرح اصلاح فرماتے جيساكہ آپ كا دل چاہتا تھا . پھر بھی آپ نے اس مختصرسی مدّت میں، سادہ اسلامی زندگی، مساوات اور نيك كمائی كے لیے محنت ومزدوری كی تعليم كے نقش تازہ كردئے۔ آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے كے باوجود كجھوروں كی دكان پر بیٹھنا اور آپنے ہاتھ سے كھجوریں بيچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ پيوند لگے ہوئے كپڑے پہنتے تھے، غريبوں كے ساتھ زمين پر بیٹھ كر كھانا كھاليتے تھے . جو مال بيت المال میں اتا تھا اسے تمام حقداروں كے درميان برابر تقسيم كرديتے تھے ۔ یہاں تك كہ آپ كے سگے بھائی عقيل نےجب یہ چاہا كہ انہیں، دوسرے مسلمانوں سے كچھ زيادہ مل جائے،تو آپ نے انكار كرديا اور فرمايا كہ اگر ميرا ذاتی مال ہوتا تو یہ ممكن تھا، مگر یہ تمام مسلمانوں كا مال ہے ، لہذا مجھے حق نہیں ہے كہ میں اس میں سے اپنے كسی عزيز كو دوسروں سے زيادہ حصہ دوں۔ انتہا یہ ہے كہ اگرآپ كبھی رات كے وقت بيت المال میں حساب وكتاب میں مصروف ہوتے اور كوئی ملاقات كے لیے آجاتا اور غير متعلق باتیں كرنے لگتا تو آپ چراغ كو بھجاديا كرتے تھے اور كہتے تھے كہ بيت المال كے چراغ كو ميرے ذاتی كام میں صرف نہیں ہونا چاہئے . آپ كی كوشش یہ رہتی تھی كہ جو كچھ بيت المال میں ائے وہ جلد سے جلد حق داروں تك پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال كو جمع كرنا پسند نہیں كرتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام كی شہادت

جنگ نھروان كے بعد خوارج میں سے كچھ لوگ جيسے عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، ومبرك بن عبد الله تميمی اور عمر و بن بكر تميمی ايك رات میں ايك جگہ جمع ہوئےاور نھروان میں مارے گئے اپنےساتھيوں كو ياد كيا كرتے ہوئے ان دنوں كے حالات اور داخلی جنگوں كے بارے میں تبادلہ خيال كرنےلگے۔ بالآخروہ اس نتيجہ پر پھونچے كه اس قتل و غارت كی وجہ حضرت علی (ع) معاویہ اورعمرو عاص ھیں اور اگر ان تينوں افراد كو قتل كر ديا جائے تو مسلمان اپنے مسائل كوخود حل كر لیں گے۔ لھذا انھوں نے آپس میں طےكيا كہ ھم میں سے ھر ايك آدمی ان میں سے ايك ايك كو قتل كرے گا ۔

ابن ملجم نے حضرت علی (ع) كے قتل كا عھد كيا اور سن۴۰ ہجری قمری میں انيسویں رمضان المبارك كی شب كو كچھ لوگوں كے ساتھ مسجد كوفہ میں آكر بیٹھ گيا ۔ اس شب حضرت علی (ع) اپنی بیٹی كے گھر مھمان تھے اور صبح كو واقع ھونے والے حادثہ سے با خبر تھے۔ لھذا جب اس مسئلہ كو اپنی بیٹی كے سامنے بيان كيا تو ام كلثوم نے كہا كہ كل صبح آپ ۔۔۔كو مسجد میں بھيج ديجئے ۔

حضرت علی (ع) نے فرمايا : قضائے الٰھی سے فرار نھیں كيا جا سكتا۔ پھر آپنے كمر كے پٹكے كو كس كر باندھا اور اس شعر كو گنگناتےہوئے مسجد كی طرف روانہ ھوگئے ۔

” اپنی كمر كو موت كے لئے كس لو ، اس لئے كہ موت تم سے ملاقات كرے گی ۔

اور جب موت تمھاری تلاش میں آئے تو موت كے ڈر سے نالہ و فرياد نہ كرو “۔

حضرت علی (ع) سجده میں تھے كہ ابن ملجم نے آپ كے فرق مبارك پر تلوار كا وار كيا۔ آپ كے سر سے خون جاری ھواآپ كی داڑھی اور محراب خون سے رنگين ہو گئ۔ اس حالت میں حضرت علی (ع) نے فرمايا : ” فزت و رب الكعبه “ كعبہ كے رب كی قسم میں كامياب ھو گيا۔ پھر سوره طہ كی اس آيت كی تلاوت فرمائی :

”ھم نے تم كو خاك سے پيدا كيا ھے اور اسی خاك میں واپس پلٹا دیں گے اور پھر اسی خاك تمھیں دوباره اٹھائیں گے “۔

حضرت علی (ع) اپنی زندگی كے آخری لمحات میں بھی لوگوں كی اصلاح و سعادت كی طرف متوجہ تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں، عزيزوں اور تمام مسلمانوں سے اس طرح وصيت فرمائی :

” میں تمہیں پرھيز گاری كی وصيت كرتا ھوں اور وصيت كرتا ھوں كہ تم اپنے تمام امور كو منظم كرو اور ھميشه مسلمانوں كے درميان اصلاح كی فكر كرتے رھو ۔ يتيموں كو فراموش نہ كرو ۔ پڑوسيوں كے حقوق كی رعايت كرو ۔ قرآن كو اپنا عملی نصاب قرار دو ،نماز كی بہت زيادہ قدر كرو، كيوں كہ یہ تمھارے دين كا ستون ھے “۔

آپ كے رحم وكرم اور مساوات پسندی كا عالم یہ تھا كہ جب آپ كے قاتل كو گرفتار كركے آپ كے سامنے لا يا گيا، اورآپ نے ديكھا كہ اس كاچہرہ زرد ہے اور انكھوں سے انسو جاری ہیں، تو آپ كو اس پر بھی رحم اگيا۔ آپنے اپنے دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السّلام وامام حسين علیہ السّلام كو ہدايت فرمائی كہ یہ ہمارا قيدی ہے اس كے ساتھ كوئی سختی نہ كرنا، جو كچھ خود كھانا وہ اسے كھلانا، اگر میں صحتياب ہو گيا تو مجھے اختيار ہے كہ چاہے اسے سزا دوں يا معاف كردوں اور اگر میں دنيا میں نہ رہا اور آپ نے اس سے انتقام لينا چاہا تو اسے ايك ہی ضربت لگاناكيونكہ اس نے مجھے ايك ہی ضربت لگائی ہے ۔ اور ہر گز اس كے ہاتھ پاؤں وغيرہ قطع نہ كرنا كيوں كہ یہ اسلامی تعليم كے خلاف ہے۔

حضرت علی علیہ السّلام دو روز تك بستر بيماری پر كرب و بيچينی كے ساتھ كروٹیں بدلتے رہے۔ اخر كار زہر كا اثر جسم میں پھيل گيا اور ۲۱رمضان كو نمازِ صبح كے وقت آپ كی روح جسم سے پرواز كر گئ .حضرت امام حسن و امام حسين علیہما السّلام نے تجہيزو تكفين كے بعد آپ كے جسم اطہر كو نجف میں دفن كر ديا۔

نظرات بینندگان
captcha