بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ جمہوری آذربائيجان كی رپورٹ كے مطابق اگرچہ كيمونيسٹ كی حاكميت كے دوران بھی ديندار افراد مخفيانہ طور پر دينی فرائض ادا كيا كرتے تھے ليكن كيونكہ مساجد بند پڑی تھیں اور دينی فرائض كی ادائيگی ممنوع تھی اور ماہ مبارك رمضان میں بھی لوگ دينی فرائض ادا نہیں كر سكتے تھے۔ جمہوریہ آذربائيجان میں مختلف نشيب و فراز سے گزرنے والا یہ مہينہ آخر كار اس ملك كے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں سينكڑوں مساجد كی تعمير كے ذريعے عزت و احترام كی نگاہ سے ديكھا جانے لگا۔ اس مہينے میں مساجد لوگوں سے كھچا كھچ بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ان مساجد میں قرائت قرآن ،نماز، دعا اور ديگر مختلف مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ اس كے علاوہ اس مہينے میں ٹی وی چينلز بھی مختلف مذہبی اور قرآنی پروگرام نشر كرتے ہیں۔ قابل ذكر ہے كہ تركی، سعودی عرب، كويت اور مصر سے وابستہ بعض گروپ اس ملك میں اہل سنت كو استعمال كر كے مذہبی اختلافات كو ہوا دينا چاہتے ہیں تاكہ اس كے ذريعے وہ اپنے مقاصد كو حاصل كریں ۔
285465