بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" شعبہ آذربائيجان كی رپورٹ كے مطابق آذربائيجان میں ۸۰ فی صد مسلمان، شيعہ ، ۱۵فی صد اہل سنت اور ۵ فی صد باقی مذہبی اقليتیں ہیں جو عيسائيوں اور یہوديوں پر مشتمل ہیں ۔ باكو میں موجود روحانيت قفقاز كا ادارہ آذربائيجان ، جارجيا اور داغستان كے مسلمانوں كے مذہبی امور كا عہديدار ہے۔ اكتوبر ۱۹۱۷ءكے انقلاب كے بعد سوويت يونين كی حكومت نے اگرچہ مذاہب كو جڑ سے كاٹ پھينكنے كی سياست شروع كر دی تھی ليكن اس كے باوجود اس سرزمين كے لوگ اپنے اپنے مذہب كے پيروكار رہے۔ كيمونسیٹوں نے دينی مدارس اور مساجد كو بند كرنے سے اپنی سرگرميوں كا آغاز كيا اور پھر آہستہ آہستہ شرعی عدالتوں اور محكمہ اوقاف كے اداروں كو ختم كيا۔ ان سب اقدامات كے باوجود كيمونسیٹوں كے دور میں ميوزيم لائبريری اور گھاس پوس كے اسٹوروں میں تبديل ہونے والی بہت ساری مساجد كی مرمت كی گئی۔ جمہوریہ آذربائيجان میں مجموعی طور پر ايك ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں كہ جن میں سے دوتہائی قديمی مساجد ہیں مثلا جزيرہ آبستروں میں " جورت" كی جامع مسجد سن ۴۰۹ھجری قمری كو تعمير ہوئی تھی شہر باكو میں تقريباً سو مساجد میں سے فقط ۲۳ مساجد مومنين اور نمازيوں كے لیے كھلی ہیں۔ جمہوریہ آذربائيجان میں لائبريری خاص اہميت كی حامل ہے سن ۱۹۹۰ء میں ۹۴۵۰ لائبريريوں میں مجموعی طور پر آٹھ كروڑ ۲۰ لاكھ كتابیں موجود تھیں۔ اس ملك كی سب سے بڑی لائبريری" آخونداف" كے نام سے معروف ہے جس كی ۱۹۲۳ء میں بنياد ركھی گئی تھی او اس میں موجود كتابوں كی تعداد ۴۰ لاكھ ہے۔ ليكن سوويت يونين كے ٹوٹنے كے بعد نہ فقط ان لائبريريوں كی كتابوں میں اضافہ ہوا ہے بلكہ بہت ساری گرانبہا كتابیں غائب ہو گئی ہیں۔
286117