بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے اردن كے روزنامہ " الرأی" سے نقل كيا ہے كہ امان كی " مشرق وسطی " يونيورسٹی كے اعلی تحقيقاتی كالج میں زبان شناسی كے استاد " عودة أبوعودہ" نے اس نشست سے خطاب كرتے ہوئے روزہ اور احكام الہی كی اطاعت سے متعلق قرآنی آيات كی فصاحت و بلاغت كے بارے میں بحث و گفتگو كی۔ انھوں نے آيت قرآن" يا ایھا الذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب علی الذين من قبلكم لعلكم تتقون"﴿آية ۱۸۳ سورہ بقرہ﴾ " صاحبان ايمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لكھ ديئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لكھے گئے تھے شايد تم اس طرح متقی بن جاؤ، كی طرف اشارہ كرتے ہوئے واضح كيا كہ خداوند تعالی نے اس آيت میں فقط امت محمد ﴿ص﴾ كو خطاب نہیں كيا بلكہ تمام انسانوں پر روزہ كو واجب قرار ديا ہے۔ ابو عودة اپنے خطاب كے آخر میں آيت قرآن"واذا سالك عبادی عنی فانی قريب ا جيب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لی وليؤمنوا بی لعلھم يرشدون"﴿آية ۱۸۶ سورہ بقرہ﴾ كے بارے میں كہا كہ ماہ مبارك رمضان میں دعا ايك خاص اہميت كی حامل ہے اور روزہ دار انسان كی دعا استجابت كے بہت نزديك ہوتی ہے۔
288650