بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نے " canoe " سے نقل كيا ہے كہ كبك كے حكام كی جانب سے اس منصوبے كی منظوری كی صورت میں اس صوبے كا اسلامی اور ثقافتی مركز قبرستان كو خريدنے كے لیے ۹ لاكھ ڈالر ميونسپل كمیٹی كو دينے ہوں گے تاكہ وہ شہر كے پاركوں اور تفريحی مقامات كو بنانے میں اس رقم سے استفادہ كرے۔
اس اسلامی اور ثقافتی مركز كے ايك عہديدار مصطفی اسكاكنی نے كہا كہ جب ايك مسلمان فوت ہو جاتا ہے تو اس كے رشتے دار يا تو اس كی لاش كو اپنے ملك واپس بھيج دیں يا مسلمانوں كے ﴿ لا وال﴾ شہر میں واحد قبرستان میں دفنا دیں۔ انھوں نے لا وال كے قبرستان میں دس ہزار ڈالر كے اخراجات كو مسلمانوں كے لیے مشكل قرار ديتےہوئے كہا كہ مسلمانوں كی تعداد میں اضافہ كی وجہ سے نوٹر ڈيم دوبلمون قبرستان سےكچھ حصے كو مسلمانوں كے لیے مخصوص كرنے كی ضرورت پر زور ديا ہے۔
296335