بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' نےالعربیہ سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ شيخ صالح اللحيدان نے سعودی عرب كے ايك مقامی ریڈيو سے ماہ مبارك رمضان میں نا مناسب پروگراموں كو پيش كرنے والے سیٹلائیٹ چينلز كے چلانے والوں كے قتل كا فتوی صادر كيا ہے اور اعلان كيا ہے كہ یہ افراد معاشرہ میں فساد اور برائيوں كی ترويج كر رہے ہیں۔ انھوں نے وضاحت كی كہ اخلاقی برائيون كا نشر كرنا اور ان كی دعوت دينا مفسدفی الارض ہے اور اگر كوئی، ان افراد كو سرگرميوں سے نہ روك سكے تو جج صاحبان ان كے قتل كو جائز قرار دے سكتے ہیں۔ دوسری جانب الازہر كے كچھ علماء نے اس فتوی كی مذمت كرتے ہوئے اسے قتل كی آشكار دعوت جانا ہے اور اعلان كيا ہے كہ اس فتوی نے صحافيوں كی زندگيوں كو خطرے میں ڈال ديا ہے۔ صحافيوں كے بين الاقوامی ادارے نے بھی اس فتوی كی مذمت كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس قسم كے فتاوی دينے سے صحافيوں كی زندگی خطرے میں پڑھ گئی ہے۔ اور ہم سياسی حكام سے مطالبہ كرتے ہیں كہ وہ ميانہ روی كو اختيار كرتے ہوئے اس فتوی كی مذمت كریں۔ اس كے علاوہ الازہر كے سابقہ معاون "محمود عاشور" نے اس بارے میں كہا كہ اسلام مطلق طور پر قتل كی اجازت نہیں ديتا مگر یہ كہ وہ حق كی بنا پر ہو اور ان سیٹلائیٹ چينلز كے چلانے والوں كا قتل حق پر مبنی نہیں ہے۔ كيونكہ اسلام نے انسانی جان كو كعبہ سے زيادہ پاكيزہ اور مقدس قرار ديا ہے۔ اور فقط قصاص كی صورت میں انسان كا قتل كرنا جائز ہے۔
296260