اسلام كے دو فرقے يعنی شيعہ و سنی اگرچہ شبہائے قدر سے مربوط بعض جزئی موضوعات میں اختلافات ركھتے ہیں ليكن ان راتوں كی اہميت اور عظمت كے بارے میں شك و ترديد كا كوئی بھی قائل نہیں ہے۔ اس مختصر تحرير میں تشيع كی بحث سے ہٹ كر شب قدر كے بارے میں اہل سنت كی روايات اور ان كے علماء كے بيان كی وضاحت كرتے ہیں۔ شب قدر كے وقت كے بارے مين اہل سنت كی احاديثی كتب میں اختلاف نظر پايا جاتا ہے۔ اور اس بات پرتمام شيعہ علماء كا اتفاق ہے كہ شب قدر ، ماہ مبارك رمضان كے آخری عشرے میں ہے اور اس میں كسی قسم كا شك و ترديد نہیں ہے۔ ليكن ہم یہاں پر كچھ احاديث كو پيش كرتے ہیں جيسے ابو حنيفہ كی "شرح الازھار" میں مشہور روايت ہے كہ وہ اس اعتقاد پر زور ديتےہیں كہ شب قدر يقينی طور پر ان آخری دس راتوں میں نہیں ہے بلكہ یہ سال كی تمام راتوں میں پوشيدہ ہے، یہ مذكورہ روايت جو فقہی مسئلہ كے ضمن میںبيان ہوئی ہے اس طرح ہے كہ شب قدر سال كی راتوں میں مخفی ہےاور اگر كوئی شخص اپنی بيوی كو شب قدر میں طلاق دينے سے مشروط كرے تو سال گزرنے كے بغير یہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔ در حقيقت یہ روايت اور اس كے مشابہ روايات جيسے " عبداللہ بن مسعود" كی روايت كہ " فقط وہ شخص شب قدر كو درك كر سكتا ہے جس نے پورا سال شب بيداری كی ہو۔ لہذا ابو حنيفہ كی اس روايت كے مطابق اس كا مطلب یہ ہے كہ ماہ مبارك رمضان كے آخری عشرے كی كسی رات میں شب قدر كا احتمال دينا صحيح نہیں ہے۔ اور كم از كم احتمال كے لحاظ سے یہ سال كی دوسری راتوں كے مساوی رات ہے۔ اہل سنت كےمصادر میں موجود ان روايات كو اہل سنت كے مفسرين اور علماء نے شك و ترديد كی نگاہ سے ديكھا ہے اگر اہل سنت كے ماخذ میں صوم اور " صيام" كے باب كے ساتھ ہی " ليلة القدر كی فضيلت" كے باب كو قرار ديا گيا ہے تو اس بات كی طرف اشارہ ہے كہ ماہ مبارك رمضان میں شب قدر كا ہونا واضح ہے۔ " الحاوی الكبير" میں " ماوردی" سے روايت ہے كہ ماہ مبارك رمضان كے تيسرے عشرےمیں شب قدر كےہونے كے بارے میں علماء كے مابين شك و ترديد نہیں ہونا چاہیے كيونكہ ابوذرنے رسول اكرم ﴿ص﴾ سے روايت كی ہےكہ یہ شب ،ماہ رمضان كے آخری عشرے میں ہے۔ نيز عبداللہ بن عمر كی رسول خدا ﴿ص﴾ سے روايت كہ آپ نے فرمايا كہ شب قدر كو رمضان كے آخری عشرے میں تلاش كرو۔ " اسی طرح حضرت عائشہ كی رسول خدا ﴿ص﴾ كے حالات كے بارے میں روايت كہ جب ماہ رمضان كا آخری عشرہ پہنچتا تو رسول خدا ﴿ص﴾ تمام راتیں بيدار رہتے اورا پنے اہل و عيال كو بھی بيدار كرتے اور اپنی بيويوں سے دوری اختيار كر ليتے۔ اسی طرح ابن عمر كی پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ كے اعتكاف كے بارے میں روايت ہے كہ جو ماہ مبارك رمضان كے آخری عشرے میں بیٹھتے تھے۔ صحيح مسلم میں آيا ہے كہ پيغمبر اكرم ﴿ص﴾ ماہ رمضان كے آخری عشرے میں اعتكاف بیٹھتے تھے۔ بنا براين ماہ مبارك رمضان میں شب قدر كے موجود ہونےوالی احاديث كے متعدد ہونے كی وجہ سے پورے سال كی راتوں میں شب قدر كے مخفی ہونے والی احاديث ضعيف ہو جاتی ہیں۔ اب شب قدر ماہ رمضان كے آخری عشرے میں كون سی رات ہے اس میں اختلافات پايا جاتا ہے اور اہل سنت كے ماخذ میں متعدد اور مختلف احاديث نقل ہوئی ہیں یہ روايات تين گروہوں میں تقسيم كی جا سكتی ہیں اور ان میں اكثر احاديث ، اكيسویں، تئيسویں، اور ستائيسویں شب كو شب قدر قرار ديتی ہیں اور بہت ضعيف ايسی روايات ہیں جو سترہویں كی رات كو ليلة القدر قرار ديتی ہیں۔ اہل سنت كے مصادر میں سب سے زيادہ احاديث ، تئيسویں كے بارے میں ہیں۔ البتہ یہ فقط ان كے مصادر میں ہے ليكن عملی طورپر وہ ستائيسویں كی رات میں ليلة القدر كے ہونے والی احاديث پر عمل كرتے ہیں۔ اور اہل سنت اس رات كو بيدار رہ كر شب قدر كے مخصوص اعمال انجام ديتے ہیں۔
299172