بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ، قرآنی سرگرم عمل " انجم شعاع" نے كہا كہ سوڈان قرآن كےلحاظ سےاسلامی ممالك میں سرفہرست ہے او اس ملك میں ايسا كم ہی كوئی شخص ملے گا جسے قرآن كو ناظرہ پڑھنا نہ آتا ہو۔ انھوں نے اس ملك كے حالات كو بيان كرتے ہوئے كہا كہ اس ملك میں فقر وتنگدستی اپنےعروج پر ہے۔ اور ۸۰ فی صد لوگ خيموں میں زندگی بسر كرتے ہیں ليكن اس كے باوجود قرآنی تعليم كے لیے بہت زيادہ اہتمام كيا جاتا ہے۔ انجم شعاع نےاس ملك میں اسلام كے آنے كے حوالے سے كہا كہ اس ملك كے لوگوں كے دوسری صدی ھجری كے اوآخر میں اسلام قبول كيا تھا ليكن قرآنی تعليم میں گويا سعودی عرب سے بھی سبقت لے گيا ہے۔ انھوں نے سوڈان میں تصوف كے آنے كو قرآنی سرگرميوں كا آغاز قرار ديتے ہوئے كہا كہ تصوف كے آنے سے ان كی عبادت كےلیے جگہوں كا اہتمام كيا گيا كہ جسے " خلوہ" كہا جاتا ہے ان خلاوی میں تلاوت قرآن كےمسلسل پروگرام منعقد ہوا كرتے تھے۔ اس خادم قرآن نے كہا كہ پرائمری سكول میں جانے سےپہلےبچے ان خلاوی میں قرآن كی تعليم سيكھتے ہیں انھوں نے سوڈان كےلوگوں كی خصوصيات كے بارے میں كہا كہ قرآن ان لوگوں كے گوشت و پوست میں نفوذكر چكا ہے اور اس ملك كی عمومی ثقافت میں آيات كو حفظ كرنا بہت رائج ہے۔
299736