اقوام متحدہ میں "اديان كی توہين" كے موضوع پر بحث و گفتگو

IQNA

اقوام متحدہ میں "اديان كی توہين" كے موضوع پر بحث و گفتگو

11:46 - October 06, 2008
خبر کا کوڈ: 1694728
بين الاقوامی گروپ: " اديان" اور آزادی بيان اور عقيدے كی اہانت " كے موضوع پر ۳ اكتوبر كو اقوام متحدہ كے دفتر میں بحث و گفتگو كی گئی ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے سعودی عرب كےروزنامہ "الرياض" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آزادی اديان كے امور میں اقوام متحدہ كے خصوصی نمائندے "اسماء جہانگير'' نے اس بارے میں كہا كہ اس گفتگو میں شہری اور سياسی حقوق كے بين الاقوامی آئين كی ۲۰ ویں اصل كی منظوری دی گئی اور اس اصل كی بنا پر حكام ٫ اديان كی توہين كے مسئلہ میں مداخلت كر سكتے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء كو امريكہ كے دو ٹريد سينٹروں پر حملوں كے بعد سے اديان كے مقدسات كی توہين اور آزادی بيان اور عقيدہ كی مخالفت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اسماء جہانگير نےحكومتوں اور مختلف ملكوں كے حكمرانوں سے تقاضا كيا كہ وہ آزادی بيان اور عقيدہ كو توڑنے والے اور دوسروں كے حقوق كی توہين كرنے والے افراد كو عدالتوں كےكٹہرے میں پيش كریں۔ اسماء جہانگير نے مغرب كی دہشتگردی كے خلاف جنگ میںفقط اديان كے مقدسات كو نشانہ بنايا جا رہا ہے كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مغرب كے بہت سے دانشور اور مفكرين ايسے اقدامات كےمخالف ہیں اور ايسے اعمال بعض اديان كے پيروكاروں سے برے سلوك كی عكاسی كرتے ہیں۔ اقوام متحدہ كے آزادی بيان كے خصوصی نمائندے نے آخر میں كہا كہ میڈيا كو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ كہ وہ آزادی كا بہانہ بنا كر اديان كی تعليمات كےبارے میں توہين آميز مطالب لكھیں۔
302592

نظرات بینندگان
captcha