بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق اس ملاقات میں( جو كہ تيونس كے وزير اعظم ہاوس میں ہوئی) "شيخ عثمان" نے " آيت اللہ تسخيری" كو خير مقدم كہا اور تيونس میںاسلامی تاريخ اس ملك میں اسلام كی نشرواشاعت میں علماءكرام كے كردار كو بيان كيا اور كہا كہ اس وقت تيونس میں تقريبا ۳ سو مكتب قرآن كام كر رہےہیں۔ انھوں مزيد كہا كہ ہم اسلامی جمہوریہ ايران كےقرآنی تجربات سےاستفادہ كریں گے۔ تقريب مذاہب كونسل كے سربراہ آيت اللہ تسخيری نے بھی اس ملاقات میں كہا ہے كہ دونوں ممالك كےدرميان قرآنی اور دينی تعلقات میں وسعت آنی چاہیے۔ اس ملاقات كےاختتام پر آيت اللہ محمد علی تسخيری نے تيونس كے مفتی كو ايران میں شائع ہونے والا قيمتی قرآنی نسخہ تحفے كے طور پر ديا۔
326901