بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق كاليفورنيا يونيورسٹی كے پروفيسر " ہیڈی ہيرسل" نے كہا ہے كہ اديان كے مابين گفتگو ہماری روزمرہ زندگی پر ہمارے عقائد و افكار كا رد عمل ہے۔ البتہ اس گفتگو كے عملی پہلووں پر زيادہ توجہ دينے كی ضرورت ہے۔ مذكورہ پروفيسر عيسائی اخلاقيات كے ماہر جانے جاتے ہیں۔ لہذا انھوں نے كہا كہ عيسائی اخلاقيات خدا سے عشق، انسانوں سےعشق جيسے اخلاقی اصول پر استوار ہیں اور ان اصولوں كا تقاضا یہی ہے كہ ہم اختلافات اور تفرقہ سے مقابلہ كرتے ہوئے اديان كےمابين يكجہتی اور تعاون كو فروغ دیں۔ انھوں نے كہا كہ اسلام اور عيسائيت كے درميان تعلقات كو مزيد مستحكم كرنے كے لیے جدوجہد كی ضرورت ہے۔ اور اديان كےمابين گفتگو كے ذريعہ مغربی معاشرے میں ۱۱ ستمبر كے واقعہ سے پيدا ہونے والی صورتحال كو درست كيا جا سكتا ہے۔ انھوں نے كہا كہ صلح و آشتی كےلیے صرف اديان كےمابين گفتگو ہی كافی نہیں ہے بلكہ اس كے عملی پہلووں پر كام كرنے كی بہت زيادہ ضرورت ہے۔
333838