بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نےنيوز ايجنسی " Adnkronos" سےنقل كيا ہے كہ اس اجلاس میں مسلم اور عيسائی دانشور شريك ہیں۔ یہ اجلاس واٹيكن كے كليساوں اور انجمن عالمی دعوت اسلامی كے تعاون سے بلايا گيا ہے۔ اس اجلاس كے موضوعات میں دينی ذمہ دارياں ، اجتماعی و ثقافتی ذمہ دارياں ، مكالمہ بين الاديان كے اجلاس شامل ہیں۔ یہ سالانہ اجلاس ۱۵ دسمبر كو شروع اور ۱۷ دسمبر كو پاپ بنڈيكٹ سےملاقات كے بعد اختتام كو پہنچا۔ گزشتہ مہينے بھی صلح كے حوالے سےعيسائيت و اسلام كا اجلاس واٹيكن میں ہوا تھا۔ ياد رہے كہ دنيا میں ايك ارب ۳ كروڑ مسلمان آباد ہیں۔ انجمن عالمی دعوت اسلامی ايك غير سركاری ادارہ ہے جس كو ۲۵۰ اسلامی مراكز كا تعاون حاصل ہے یہ انجمن ۱۹۷۲ء میں قائم كی گئی اور اس كا مقصد یہ تھا كہ اجلاسوں كے ذريعے اديان كے اختلافات كو ختم كر كے انہیں ايك دوسرے كے قريب لايا جائے۔
334657