سوئٹزر لينڈ كی " لوزن" يونيورسٹی میں اديان كے باہمی تعلقات كے پروفيسر ج" جان كلوڈباسہ" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كے عالمی شعبے سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ يورپ میں دين كو ذاتی اور خصوصی قسم كی حيثيت حاصل ہے۔ جس سے معاشرے میں دين كا كردار بہت كم ہے يعنی دين اپنی اجتماعی حيثيت كھو چكا ہے ليكن اس كے باوجود لوگ مذہبی اجتماعات میں شركت كرنا پسند كرتےہیں اور خاص دينی رسومات جيسے اتوار كے دن كليسا جانا، عيد كی تعطيلات اور دوسری دينی عيدوں كا باقی ہونا وغيرہ بتاتا ہےكہ ابھی تك يورپی گھرانوں میں مذہبی اقدار كسی حد تك باقی ہیں۔ جبكہ اس كے برعكس ايران میں دينی اقدار معاشرے كے مختلف طبقات میں بالكل واضح اور قابل درك ہے۔ " جان كلوڈ" عيسائی ہیں۔ اور اديان كے مابين گفتگو كےحوالے سے انكا كہنا ہے كہ صرف كتابیں اور تصويریں كافی نہیں ہیں۔ بلكہ آمنے سامنے گفتگو ار تبادلہ خيال سےبہت ساری مشكلات قابل حل ہیں۔ اور اس سے تقريب اديان كی اہميت اور زيادہ واضح ہو جاتی ہے۔ انھوں نے كہا گروہی سرگرمياں باعث بنتی ہیں كہ اديان كے پيروكار ايك دوسرے كو قريب سے ديكھیں اور اس سے اعتماد سازی كی فضا قائم ہوتی ہے اور بالخصوص اسلام كے حوالے سے جو خاص ذہنيت بنا دی گئی ہے اس كے ازالہ میں بھی مدد ملتی ہے۔انھوں نے كہا كہ ملاقاتیں ، كانفرنس ، سيمينار اور ہر وہ اقدام جس سے اديان كے مابين تقريب حاصل ہوتی ہے یہ بہت مفيد ہیں اور اس سے تفريق، قوم پرستی وغيرہ كے ازالہ میں بھی مدد ملتی ہے۔
334191