بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق " المينار" نيوز چينل نے كہا ہے كہ نجوميوں نے اپنے دقيق علمی اعداد و شمار كے بعد كہا ہے كہ حضرت مسيح كا روز ولادت ۲۴ دسمبر كو ہونا درست نہیں ہے بلكہ ان كے روز ولادت كی دقيق تاريخ ۱۷ جنوری ہے۔ نجوميوں نے كہا ہے كہ كرسمس ستارہ كے ظہور سے وابستہ گراف سےظاہر ہوتا ہے كہ یہ ستارہ ۱۷جنوری كی تاريخ بتاتا ہے۔ آسٹريلوی نجومی " ڈيف انگی" نے كہا ہے كہ میں نے ستاروں كے مقامات كی تلاش میں بہت پيچيدہ كمپيوٹری پروگراموں سے استفادہ كيا ہے اور اپنے ساتھيوں كی مدد سے شب ميلاد مسيح كے ستارے كو پانے كے لیے نقشہ واضح كيا ہے۔ انھوں نے كہا كہ ہم اس تحقيق كے ذريعہ دين كو بے ارزش كرنے كے درپے نہیں ہیں بلكہ ہماری جدوجہد دين كی حمايت كےلیے ہے۔ كرسمس ستارے كا ظہور اناجيل میں حضرت مسيح كے ميلاد كی علامت كے طور پر آيا ہے جس كی خبر تين زردشتی دانشوروں نے دی تھی۔
336223