(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'') " Time Online" كےمطابق البغدادیہ سٹلائٹ چينل كےرپورٹر منتظر الزيدی جواب دنيائے عرب كے ہيرو بن چكے ہیں۔ بغداد كے مغرب میں موجود شہر " رضوانیہ" میں رپوٹنگ كے سلسلسہ میں گئے ہوئے تھے۔ جہاں انھوں نے ايك امريكی فوجی كو قرآن پاك كی بے حرمتی كرتے ہوئے ديكھا جو قرآن مجيد پر گولياں برسا رہا تھا۔ منتظر الزيدی كے بھائی عدی كہتے ہیں كہ اس واقعہ كی وجہ سے منتظر بہت نالاں تھے اور ہميشہ اس كا تذكرہ كرتے اس كے علاوہ عراق كی موجودہ جنگی صورت حال نے بھی ان پر گہرے اثرات ڈالے تھے اور یہی چيز پريس كانفرنس میں رونما ہونے والے واقعہ كا سبب بنی۔ منتظرالزيدی كو گرفتاری كے بعد محفوظ مقام پر منتقل كر ديا گيا ہے اور انہیں اہل خانہ سے ملنے كی اجازت نہیں ہے۔ منتظر كے بارے میں احتمال ديا جا رہا ہے كہ اگلے پندرہ سال وہ جيل كی سلاخوں كے پيچھے بسر كریں گے۔ عدی كا كہنا ہے كہ نوری المالكی كے كسی ساتھی نے فون پر رابطہ كر كے منتظر الزيدی كو زد كوب كرنے پر اظہار افسوس كيا ہے۔ مشرق وسطی كے ٹی وی چينل گزشتہ چند روز سے مسلسل زيدی كی جانب سے جوتا پھينكنے اور زيدی كے حق میں ہونے والے مظاہروں كےمناظر دكھا رہے ہیں۔ جو در حقيقت مشرق وسطی كے عوام كی بش سے نفرت كا آئينہ ہیں۔
336260