بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق "مہر نيوز" نے لكھا ہے كہ تيونس كی حكومت نے اسلامی تمدن اور تہذيب كو اجاگر كرنےكےلیے مختلف پروگرام ترتيب ديئےہیں جن میں فيسٹيول ،عالمی كانفرنس ، نمائش ، مقابلے، تھیڑز، دستاويزی فلمیں، اور مختلف عناوين پر تعليمی پروگراموں كا انعقاد شامل ہیں۔ ہر سال آسيسكو كی طرف سے مختلف اسلامی ممالك كےتين شہروں كو اسلامی دنيا كے ثقافتی دارالحكومت كے طور پر نامزد كيا جاتا ہےجو سال كے دوران مختلف اسلامی تہذيب و تمدن پر مشتمل پروگرام منعقد كرتے ہیں تاكہ دنيا كو اسلامی تہذيب سے روشناس كروايا جائے۔ اب تك دنيائے اسلام كےثقافتی دارالحكومت بننے والےشہروں میں مكہ ، اصفہان ،حلب، مالی كا شہرٹمبكٹو، مراكش كا شہر فاس ، ازبكستان كا شہر تاشقند ، ليبيا كا شہر طرابلس، مصر كا شہر اسكندریہ، پاكستان كا شہرلاہور، جمہوریہ جيبوتی كا شہر جيبوتی ،تيونس كا شہر قيروان شامل ہیں قيروان كی اسلامی تاريخ ۵۰ ہجری قمری (۶۷۰ء) سے شروع ہوتی ہےاوراسلام كے قديمی ترين شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر تيونس كے دارالحكومت سے ۱۶۰ كلومیٹر كے فاصلے پر واقع ہے۔