بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق "الجزيرہ" خبررساں سائٹ نے لكھا ہے كہ خالد مشعل نے ايك ٹيلی ويژن پروگرام میں بات چيت كرتے ہوئے كہا ہےكہ اسرائيل نے حملہ كرنے سے پہلے كچھ مقاصد بيان كیے تھے ليكن حماس كی مزاحمت كے نتيجے میں وہ ان مقاصد كے حصول میں ناكام ہو چكا ہے اور اگر غزہ پر حملے جاری رہے تو پھر مذاكرات كا دورازہ بند ہو جائے گا اور جنگ بندی ممكن نہیں رہے گی ۔ مشعل نے غزہ میں عالمی فوج تعنيات كرنے كے فارمولے كو مسترد كرتے ہوئے كہا كہ اس كا مطلب غزہ كے علاقے كو دوسروں كے حوالے كرنا ہو گا۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے كہ ۲۰۰۵ء كے اس معاہدے پر بھی تجديد نظر كی جائے جو راستوں كے حوالے سے كيا گيا تھا۔ انھوں نے اسرائيل كو مخاطب كرتے ہوئے كہا كہ غزہ پر حملے سے اس كی اقتدار كی مدت كم ہوگئی ہے ۔ خالد مشعل نے كہا كہ حماس كا مطالبہ یہ ہے كہ فوری جنگ بندی ہو، اسرائيل فوجیں واپس لے جائے اور غزہ كا محاصرہ ختم كرے اور تمام راستوں كو كھول ديا جائے۔ انھوں نے كہا كہ یہ جنگ صرف حماس كے خلاف نہیں ہے بلكہ تمام فلسطينی عوام كے خلاف ہے۔ اسرائيل نے اس جنگ میں بہت زيادہ مادی اور معنوی ہزيمت اٹھائی ہے اور اس كانفرت انگيز چہرہ دنيا پر عياں ہو گيا ہے۔
346204