بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے عالمی شعبہ سے بات چيت كرتے ہوئے يمن میں ايرانی كلچر سنٹر كے سربراہ " علی اصغر ايرانمنش" نے كہا كہ غزہ كے واقعہ میں عالمی اداروں كا كردار امام حسين كی حديث كا واضح مصداق ہے كہ " لوگ دنيا كے بندے ہیں"۔ عالمی ادارے صرف حماس ، حزب اللہ اور ايران سے خطرہ محسوس كرتے ہیں۔ غزہ كے حالیہ واقعات میں عالمی اداروں نےاسرائيل اور امريكہ سے اپنی وفاداری ثابت كر دكھائی ہےاوراسرائيلی جارحيت كے سامنے بھيگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ جب تك عالمی استكبار كو یہ يقين نہیں ہو جاتا كہ اسرائيل كو شكست ہو رہی ہے اس وقت تك غزہ كے بحران كی خاطر كوئی قدم نہیں اٹھايا جائے گا۔ انھوں نے كہا كہ اسلامی ممالك كےدينی اور مذہبی مراكز كی ذمہ داری ہے كہ وہ رد عمل دكھائیں ليكن قابل افسوس بات یہ ہے كہ دينی اور مذہبی ادارے بھی حكومتوں كے زير تسلط ہیں اور حكومتوں كی اجازت كے بغير كوئی بات نہیں كرتے۔ انھوں نے مصری حكومت كی طرف سے اسرائيل كی حمايت كرنے كے حوالے سے كہا كہ مصری حكومت كا بعض مسلمان دانشوروں كو حسنی مبارك سے گفتگوكےلیے ويزا فراہم نہ كرنا بھی اسی حمايت كی ايك كڑی ہے۔ انھوں نے كہا كہ مصر اسرائيل كے اصلی حاميوں میں سے ايك ہے ليكن عوام كو فريب دينے كے لیے ظاہری بيان بازی جارير كھے ہوئےہے۔
346005