(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا") خبررساں ويب سائٹ "Islam online" كے مطابق صبرا اور شتيلا كے قتل عام كے دوران لبنان میں موجود ناروے كے ڈاكٹروں نے اسرائيل كی وحشيانہ كاروائيوں پر سخت تنقيد كی اور كہا كہ یہ حملے جتنی جلدی ممكن ہو سكے بند ہونا چائیں تاكہ محصور افراد كے لے غذا ، پانی ، بجلی اور طبی سہولتوں كی فراہمی عمل میں لائی جا سكے۔ ڈاكٹروں نے كہا كہ اسرائيل كے دعوے كے بر خلاف غزہ كے ہسپتالوں میں ۹۰ فيصد افراد عام لوگ ہیں۔ ياد رہے صبرا شتيلا كا قتل عام ۱۹۸۲ میں لبنان كی خانہ جنگی كے دوران ۱۶ سے ۱۸ ستمبركو ہوا جس میں فالانژ نيم فوجی دستوں نے صدر بشير جميل كےقتل كا بدلہ لينے كےلیے صبرا اور شتيلا كی فلسطينی مہاجر بستيوں پر حملہ كر ديا تھا۔ جس كے نتيجے میں تقريباً ۳۵۰۰ افراد موت كے گھاٹ اتارديئے گئے۔ فالانژ لبنان كے عيسائی شدت پسندوں كی تنظيم تھی جسے اسرائيل كی جانب سے مكمل حمايت حاصل تھی۔
347641