بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نے " العربیہ رویٹرز" كے حوالےسے رپورٹ دی ہے كہ ۱۶ جنوری ۲۰۰۹ء كو پاپ بنڈيكٹ نے ویٹيكن میں ايرانی كيتھولك رہنماوں سے ملاقات میں كہا ہے كہ مشرق وسطی میں قيام امن كے لیے ايران كو موثر كردار ادا كرنا چاہیے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ كيتھولك برادری ان افراد يا جماعتوں كی حمايت كرتی رہے گی جو دنيا میں قيام امن كے لیے كوشاں ہیں۔ انھوں نےوضاحت كی كہ ايران مشرق وسطی اور ايشائی ممالك كےدرميان پل كی حيثيت ركھتا ہے لھذا وہ مشرق وسطی میں قيام امن میں مؤثر كردار ادا كر سكتا ہے۔ ياد رہے كہ ايران میں كيتھولك عيسائيوں كی تعداد ۲۵ ہزار افراد ہے۔
349687