بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نے" الجزيرہ نیٹ" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اس وفد میں مسلمان قانون دان اور ڈاكٹرز شامل تھے جو رفح كے راستے سے غزہ میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ فرانس كی اسلامی انجمنوں كی يونين كے سربراہ " شكيب بن مخلوف" نے كہا ہے كہ يورپ كی اسلامی انجمنوں كی طرف سے امداد جودواؤں پر مشتمل ہے رفح كے راستے سے غزہ پہنچ چكی ہے ليكن مصری حكام نے يورپ كے اسلامی وفد كو غزہ جانے سے روك ديا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ مصری حكام نے ايسے وقت میں يورپ كے اسلامی وفد كو غزہ جانے سے روكا ہے جب مصری عوام نے اس وفد كا بھر پور استقبال كيا ہے۔ جناب شكيب بن مخلوف نے وضاحت كی كہ يورپ كی اسلامی انجمنوں كی يونين نے غاصب اسرائيل كی طرف سے غزہ میں نسل كشی كو ركوانے كے لیے بہت زيادہ كوشش كی ہیں۔ اور اب اس يونين كا ارادہ ہے كہ وہ اسرائيلی حكام كے خلاف بين الاقوامی عدالت میں مقدمہ كرے گی۔ انھوں نے آخر میں كہا كہ اس يونين نے يورپی ممالك میں اسرائيل كے خلاف مظاہرے كیے ہیں۔ اور غزہ میں اسرائيلی جرائم كی روك تھام كے لیے يورپين يونين اور اقوام متحدہ كے سربراہ بان كی مون كو عليحدہ عليحدہ پيغام ارسال كیے ہیں۔
349425