بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " اسلام آن لائن" سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ بنگال میں اسلامی اسكولوں كی انجمن كے صدر " سہراب حسين" نے گزشتہ روز ايك ہندی اخبار كو انٹرويو ديتے ہوئے كہا كہ بنگال میں اسلامی اسكولوں میں ۵۷ سے۶۴ فيصد طلباء ہندو ہیں اور اس تعداد سے معلوم ہوتا كہ ان اسكولوں كے بارے میں جو پراپيگنڈہ كيا جاتا ہے وہ بے بنياد ہے۔ انھوں نےمزيد كہا كہ اسلامی اسكولوں میں ايك نقص یہ ہے كہ انھیں طلباء كو صرف دينی علوم يا دين سے مربوط مسائل كے متعلق ہی تعليم دی جاتی ہے جبكہ ہمارے اسلامی اسكولوں میں علوم اور جديد ٹيكنالوجی كی تعليم پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ انھوں نے كہا كہ ان اسكولوں میں جديد طرز پر تعليم دی جاتی ہے۔ اور اس وقت ہمارے ۴۲ اسلامی اسكولوں كی اپنی سائٹ ہے۔ انھوں نے وضاحت كی كہ اس وقت بنگال میں ۵۰۶ اسلامی اسكولوں میںوہ اپنی سرگرمياں انجام دے رہے ہیں اور اس سال كے آخر تك جديد ۵۲ اسلامی اسكول بھی تعليمی سرگرميوں كا آغاز كر دیں گے۔
351979