بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " الجزيرہ نیٹ" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ ناروے كےڈاكٹر " مدس گيلبرٹ" نے گزشتہ روز الجزيرہ نیٹ سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اسرائيل نے
غزہ كی جنگ میں جديد اسلحے كا استعمال كيا ہے جس كی وجہ سے زخميوں كے علاج میں ڈاكٹروں كو مشكلات كا سامنا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اسرائيل نے اس جنگ میں جن بموں كا استعمال كيا ہے ان سے كينسر كی بيماری پيدا ہوئی ہے اور جو افراد ان بموں سے زخمی ہوئے ہیں وہ چند ماہ كے بعد ہلاك ہو جائیں گے۔ انھوں نے كہا كہ اسرائيل ممنوعہ بموں كے استعمال سےانكار كرتا ہے تو وہ غزہ جانے والے راستوں كو كھول دے تاكہ بين الاقوامی ماہرين ان حملوں كے بارے میں صحيح رپورٹ دے سكیں۔ ناروے كےاس ڈاكٹر نے رپورٹ دی ہے كہ ميرے پاس اس جنگ میں ہلاك ہونےوالے جتنے افراد آئے ہیںان میں سے ۹۰ فيصد بچے، عورتیں اور بوڑھے افراد تھے۔ اس نےاپنی رپورٹ میں كہا ہے كہ ان حملوں میں اسرائيلی افواج نے بہت سی مساجد كو منہدم كيا ہے اب سوال یہ پيدا ہوتا ہے كہ اگر حماس یہوديوں كی عبادت گاہوں كو نشانہ بناتی تو دنيا اس كے بارےمیں كيا كہتی۔ ياد رہے كہ ناروے كا ڈاكٹر ۲۲ روزہ جنگ میں عرب ڈاكٹروں كے ساتھ غزہ میں زخميوں كی طبی امداد كرتا رہا اس كا ارادہ ہے كہ وہ دنيا كے سامنے اسرائيلی جارحيت كو بے نقاب كرے۔
354367