بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق ۱۱ فروری ۲۰۰۹ء كو آيت اللہ العظمی مكارم شيرازی نےقم میں اپنےفقہ كے درس خارج كی ابتداء میں گفتگو كرتے ہوئے پاراچنار كے شيعوں كے قتل كے مقابلے میں حكومت پاكستان كے سكوت پر شديد تنقيد كی اور كہا ہے كہ حكومت پاكستان كيوں تماشا ديكھ رہی ہے مگر پاراچنار پاكستان كا حصہ نہیں ہے حكومت پاكستان كو چاہیے كہ وہ اپنے لوگوں كا دفاع كرے پارا چنار میں غزہ سے بھی بدتر نسل كشی ہو رہی ہے۔ آيت اللہ مكارم شيرازی نے ايرانی وزارت خارجہ پر بھی تنقيد كی اور كہا كہ ايرانی وزارت خارجہ اگر ان مسائل پر توجہ نہیں دے گی تو ان واقعات میں اور زيادہ اضافہ ہو گا۔
362888