بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق اس عالمی اجلاس میں شركاء نےمندرجہ ذيل نكات پر اتفاق كيا ہے۔
(۱)اسرائيلی افواج نے جنگی جرائم اور انسانيت كے خلاف نسل كشی كا ارتكاب كيا ہے۔
(۲)اسرائيل كی غزہ كےخلاف جنگ عالمی قوانين اور عالمی انسان دوستانہ معاہدوں اور انسانی حقوق كی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے لہذا اسرائيل عالمی حقوق كے تحت اس قرار داد پرعمل كرنے كا پابند ہے۔
(۳)اسرائيلی افواج كی عقب نشينی كےباوجود غزہ پر اسرائيل كا مؤثر كنٹرول موجود ہے جو جنيوا معاہدے كی سراسر خلاف ورزی ہے۔
(۴)غزہ كی پٹی پر حملے میں عالمی قوانين كی خلاف ورزی پر مشتمل شواہد اكھٹے كیے جا چكے ہیں جن میں اسرائيلی افواج كی مساجد، يونيورسٹيوں اور عوامی آبادی پر بمباری شامل ہے۔
۵)تمام حكومتیں خواہ وہ جنيو ا ۱۹۴۹ء كے معاہدے میں شامل ھوں يا نہ ہوں وہ انسان دوستانہ اقدام كی پابند ہیں۔
(۶)غزہ كی پٹی كا محاصرہ جس میں راہداريوں كی بندش ، ايندہن، غذائی اشياء اور ادويات كی ممانعت ايسےجرائم ہیں جن سے انسانی جانیں خطرے میں پڑیں اور ايك سماجی بحران پيدا ہوا ہے۔
372764