بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق فلسطينی جہاد اسلامی تحريك كےجنرل سيكرٹری رمضان عبداللہ نے اجلاس كے پہلے دن خطاب كرتے ہوئے تہران اجلاس كا مقصد اسرائيلی مظالم كےخلاف مقدمہ كرنا اور فلسطينی گروہوں كے درميان اختلافات كو ختم كرنا ہے ۔ انھوں نے ان اختلافات كو بحران سے تعبير كيا اور كہا كہ فلسطينی احزاب میں كسی مشتركہ نقطہ نظر كا نہ ہونا اسرائيل جيسے دشمن كے ہاتھ بہانہ فراہم كرنا ہے، انھوں نے تمام فلسطينی گروہوں سے مطالبہ كيا كہ وہ آپس میں ہم آہنگ ہونے كے لیے پوری جدوجہد كریں تاكہ غزہ كےستم ديدہ عوام كی بھر پور طريقے سے امداد رسانی ہو سكے۔ انھوں نے كہا كہ حال حاضر میں غزہ كی پٹی ايك بہت بڑی جيل میں تبديل ہو چكی ہے جس میں ڈیڑھ ملين افراد قيد ہیں اور اب ۵۰ فيصد فلسطينی سرزمين پر اسرائيل كا قبضہ ہے جبكہ اب فلسطينيوں كو اپنی قومی سرزمين كے ۲۰ فيصد حصے پر رہنے كا حق حاصل ہے۔
373159