بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے روزنامہ " Rising Kashmir " كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اس روزنامہ نے اس قرآنی نسخے كی تاريخ اور یہ كيسے كشمير میں آيا ہے كہ متعلق لكھا ہے كہ یہ قرآنی نسخہ خط كوفی ہے اور اس كے آخر صفحات پر محرم الحرام ۱۷۳ ہجری قمری كی مہر موجود ہے۔ كہتے ہیں كہ قرآن مجيد كا یہ نسخہ امام موسی كاظم علیہ السلام نے ہارون الرشيد كے زندان میں تحرير كيا تھا۔ امام علیہ السلام كی شہادت كے بعد یہ نسخہ ايران كے شہر اردبيل میں منتقل ہوا اور پھر ۶۶۵ہجری قمری میں " سيد سلطان حيدر غبروای"نامی شخص اسے كشمير لے گيا اور اب تك یہ نسخہ وہاں پر موجود ہے۔ ۱۹۶۸ء كو اس قرآنی نسخے كی حفاظت كے لیے مخصوص جگہ تعمير كی گئی اور دو سال بھی ايك مخصوص كمیٹی بھی اس كی حفاظت كے لیے تشكيل دی گئی ۱۳سو سال گزر جانے كے باوجود یہ قرآن مجيد ابھی تك صحيح و سالم ہے۔ سال میں صرف دو دن امام موسی كاظم علیہ السلام كی شہادت كے دن اور چہلم سيد الشہداء (ع) كے دن لوگوں كو اس قرآن مجيد كی زيارت كرائی جاتی ہے۔
382211