بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے روزنامہ "Peninsula" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ڈرسڈن شہر كی عدالت میں شہيد ہونے والی مسلم خاتون " المروہ" كی ياد میں جرمنی كے ہزاروں مسلمانوں نے تعزيتی اجتماع میں شركت كی اور اس كے لئے دعائے خير كی۔
واضح رہے كہ ايك جرمن باشندے نے اس مصری با حجاب خاتون كے ساتھ حجاب كی وجہ سے بدتميزی كی تھی جس پر اس نے عدالت كا دروازہ كھٹكھٹايا تھا۔ ليكن بھری عدالت میں جج اور دوسرے عدالتی اہلكاروں كی موجودگی میں ملزم نے اس مسلم خاتون پر حملہ كر ديا اور چاقو كے ۱۸ پے درپے وار كر كے اسے ابدی نيند سلا ديا۔ " مروہ الشربينی" كو مصر اور دوسرے عرب ممالك میں شہيدہ حجاب كے نام سے ياد كيا جانے لگا ہے۔ اس مسئلہ میں سرد مہری دكھانے پر جرمن حكومت پرعالمی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم جرمنی كے مہاجرين اور پناہ گزينوں كے وزير" ماريا بوہمر" نے كہا ہے كہ جرمن معاشرے میں فرقہ واريت كی آگ كسی صورت میں بھی روا نہیں ہے۔ ادھر جرمن وزير خارجہ نے مصر كے وزير خارجہ كے نام ايك خط میں اظہار افسوس كرتے ہوئے متاثرہ خاندان كے ساتھ ہمدردی كا اظہار كيا ہے۔ اس وقت جرمنی میں ۳۰ لاكھ سے زائد مسلمان زندگی بسر كرتے ہیں اور دوسرے يورپی ممالك كی نسبت اس ملك میں مسلمانوں كے ساتھ زيادہ نسلی سلوك روا ركھا جاتا ہے۔
432510