عراق كے قاری " علی عبدالسلام" نے قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اگرچہ حفظ و قرائت قرآن بھی قابل قدر كام ہیں ليكن صرف انہیں تك محدود نہیں رہنا چاہیے بلكہ قرآن مجيد كے نورانی مفاہيم و مطالب میں غوروفكر كرنے كی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے عراق می قرآنی سرگرميوں پر تبصرہ كرتے ہوئے كہا كہ اگرچہ عراق میں كماحقہ قرآنی سرگرمياں شروع نہیں ہوئی ہیں ليكن حالیہ برسوں میں قرآنی تعليمات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور جوانوں كو قرآنی تعليمات كی ترغيب دلائی گئی ہے۔ علی عبدالسلام نے قرآن مجيد كے ۲۶ویں بين الاقوامی مقابلوں میں ايران اور ملائيشيا كے قراء كی تعريف كرتے ہوئے كہا كہ ان كی پرفارمنس بہت عمدہ رہی ہے۔ واضح رہے كہ " علی عبدالسلام" كا تعلق عراق سے ہے جو بہت سارے بين الاقوامی مقابلوں میں شركت كر چكے ہیں۔
438013