قرآن مجيد كے ۲۶ ویں بين الاقوامی مقابلوں میں زمبابوے سے شركت كرنے والے قاری "مواچندی صوفيانی" نے قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كو خصوصی انٹرويو ديتے ہوئے كہا كہ طالب علمی كے زمانہ میں جب میں قرآن مجيد كی تلاوت كرتا تو غير مسلم اسٹوڈنٹس پروانہ وار اكھٹے ہو جاتے۔ لہذا اس سے پتہ چلتا ہے كہ دلكش قرائت قرآن میں اتنا اثر ہے كہ غير مسلم افراد بھی كلام الہی كے گرويدہ ہو سكتے ہیں۔ انہوں نے مزيد كہا كہ وہ سات سال كی عمر سے قرائت قرآن مجيد كو سيكھ رہے ہیں۔ انہوں نے قاری عبدالباسط اور مصطفی اسماعيل كو عالم اسلام كے نامور قراء میں شمار كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان جيسا كوئی اور قاری پيدا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے قرآنی مقابلوں كی تعريف كرتے ہوئے كہا كہ اس سے عالم اسلام میں بھائی چارگی اور وحدت كو فروغ ملتا ہے اور ان مقابلوں میں شركت سے مجھے نيا ولولہ وجذبہ ملا ہے۔
438595