بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے روزنامہ "حريت" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ كوپن ہيگن شہر كے ميئر "كلاوس بونڈم" نے اس بات كی وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ ڈنمارك كے یہوديوں اور عيسائيوں كے اپنے مخصوص عبادت خانے موجود تھے لہذا اس شہر میں مسجد كا ہونا انتہائی ضروری تھا تاكہ مسلمان بھی اپنے دين كے مطابق عبادات انجام دے سكیں۔ انہوں نے مزيد كہا كہ كوپن ہيگن كی ميونسپل كمیٹی نے اس مسجد كی تعمير كا نقشہ تيار كر ركھا ہے جس كے تحت مسجد كے ۳۲ میٹر لمبے دو مينار اور نيلے رنگ كا ايك گنبد ہو گا۔ البتہ غير مسلمانوں كی مراعات كرتے ہوئے لاؤڈ اسپيكر سے اذان دينا ممنوع ہے۔ كوپن ہيگن كی ميونسپل كمیٹی كے نمائندے " حميد المصطفی" نے اس مسجد كی تعمير پر خوشی كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ ہم نے اس مسجد كی تعمير كے لئے بہت زيادہ كوششیں كی ہیں كيونكہ ڈنمارك كے مسلمانوں كو اپنے مذہبی پروگرام منعقد كرنے كے لئے بہت زيادہ مشكلات كا سامنا تھا۔
456086