مزار شريف میں ايرانی قونصل خانے كے كونسلر "سعيد زينتی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے نامہ نگار سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ موجودہ حالات میں افغان معاشرے كو اس طرح تشكيل ديا گيا ہے كہ اس میں علم و ثقافت اور ديگر ميدانوں میں موجود تبديليوں كا سرچشمہ قرآنی محافل ہیں۔ انہوں نے مزيد كہا كہ افغانستان كے خاندانوں میں ان پڑھ ہونے كے باوجود دينی تعليم حاصل كرنے كا شوق پايا جاتا ہے اور اس ملك میں علماء، قرآن كريم اور معاشرے كے درميان ارتباط قائم ہے اس بنا پر جوانوں كو دينی اور قرآنی اصولوں سے جدا كرنے كے لئے ثقافتی يلغار میڈيا اور ديگر آزاد ذرائع ابلاغ سے استفادہ كر رہی ہے۔ انہوں نے كہا ہے كہ افغانستان میں حالیہ سرگرمياں لوگوں كی ضرورت كو پورا كرنے سے قاصر ہیں لہذا ہمیں اس معاشرے میں قرآنی اور دينی تعليمات كو عام كرنے كے لئے زيادہ وسائل اور كوشش كی ضرورت ہے۔
467915