افغانستان كی ثقافت میں قرآنی محافل كا مركزی مقام ہے

IQNA

افغانستان كی ثقافت میں قرآنی محافل كا مركزی مقام ہے

14:49 - September 23, 2009
خبر کا کوڈ: 1829181
بين الاقوامی گروپ: مزار شريف میں اسلامی جمہوریہ ايران كے قونصل خانے كے كونسلر نے قرآن اور افغانی معاشرے كے درميان قديمی گہرے تعلق اور اس معاشرے كی ثقافت میں قرآنی محافل كی مركزی حيثيت كو افغانستان میں مغربی ثقافتی يلغار كے مقابلے كے لئے دو بنيادی اسباب قرار ديا ہے۔
مزار شريف میں ايرانی قونصل خانے كے كونسلر "سعيد زينتی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے نامہ نگار سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ موجودہ حالات میں افغان معاشرے كو اس طرح تشكيل ديا گيا ہے كہ اس میں علم و ثقافت اور ديگر ميدانوں میں موجود تبديليوں كا سرچشمہ قرآنی محافل ہیں۔ انہوں نے مزيد كہا كہ افغانستان كے خاندانوں میں ان پڑھ ہونے كے باوجود دينی تعليم حاصل كرنے كا شوق پايا جاتا ہے اور اس ملك میں علماء، قرآن كريم اور معاشرے كے درميان ارتباط قائم ہے اس بنا پر جوانوں كو دينی اور قرآنی اصولوں سے جدا كرنے كے لئے ثقافتی يلغار میڈيا اور ديگر آزاد ذرائع ابلاغ سے استفادہ كر رہی ہے۔ انہوں نے كہا ہے كہ افغانستان میں حالیہ سرگرمياں لوگوں كی ضرورت كو پورا كرنے سے قاصر ہیں لہذا ہمیں اس معاشرے میں قرآنی اور دينی تعليمات كو عام كرنے كے لئے زيادہ وسائل اور كوشش كی ضرورت ہے۔
467915

نظرات بینندگان
captcha